پنجاب کےکماؤ پت محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی سنی گئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
راؤ دلشاد: پنجاب کابینہ نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے فیلڈ آپریشنز کو مزید موثر بنانے کے لیے نئی گاڑیاں خریدنے کے فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی گاڑیوں کی فراہمی سے فیلڈ افسران ریونیو کلیکشن، انسپکشن اور انسدادِ سمگلنگ آپریشنز میں مؤثر انداز میں کارروائیاں کر سکیں گے۔
منظوری کے بعد محکمہ کو جدید گاڑیاں فراہم کی جائیں گی تاکہ محصولات کی وصولی اور فیلڈ آپریشنز کی استعداد کار میں اضافہ ہو۔
مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ آج سینیٹ میں پیش ہوگا
پنجاب حکومت نے گاڑیوں کی خریداری کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932