وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے، سینیٹ میں ہمارا نمبر پورا ہے، جونہی ووٹر پورے پہنچیں گے ووٹنگ شروع کردی جائے گی۔

ایوان بالا (سینیٹ) کا اجلاس سینیٹر منظور احمد کی صدارت میں جاری ہے جس میں مختلف رہنما اظہار خیال کر رہے ہیں۔

قبل ازیں سینیٹ اجلاس کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں گھنٹیاں بجائی گئیں جس کے بعد ناشتے میں آئے ہوئے اراکین پارلیمنٹ ناشتہ کرکے ایوان کی جانب چلے گئے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ  آئینی عدالت وقت کی ضرورت ہے، ملٹری کمانڈ کے معاملے پر طویل مشاورت کی گئی۔

ڈپٹی وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا سے گفتگو  کی، اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ ڈار صاحب کیا نمبر پورے ہیں؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ جی انشاء اللہ،۔

سوال  کیا گیاکہ کیا نیشنل پارٹی آئینی ترمیم کی حمایت کرے گی؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو پتہ چل جائے گا، جب ووٹنگ ہوگی۔

27ویں ترمیم سینیٹ میں پیش کرنے سے قبل اراکین سینیٹ کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔

سینیٹر دنیش کمار نے ناشتے کا مینیو بھی بتایا اور کہا کہ ناشتے میں ، انڈے تھے، پراٹھے تھے، حلوہ تھا، کروسینٹ تھے۔

سوال نے کیا کہ کیا ناشتے کے بعد تمام اراکین ووٹ دیں گے،اس پر انہوں نے جواب دیا کہ جس کا نمک کھایاجاتا ہے اس سے وافاداری کی جاتی ہے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کوئی ڈیڈ لاک نہیں، سینیٹ میں ہمارا نمبر پورا ہے، جونہی ووٹر پورے پہنچیں گے ووٹنگ شروع کردی جائے گی۔

وزیر قانون نے کہا کہ ہمیشہ مشاورت ایسے ہی ہوتی ہے، اس میں وقت تھوڑا لگتا ہے، 26ترمیم میں شام کو جاکر ووٹنگ ہوئی تھی۔

جے یو آئی کا 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہ دینے کا فیصلہ
 

جے یو آئی کے مرکزی رہنما و سینیٹر کامران مرتضیٰ نے میڈیا سے گفتگو  میں کہا کہ  ہمیں ہر چیز پر اعتراض ہے،  حکومت پر اعتبار بھی نہیں، 27 ویں ترمیم سے 26 ویں ترمیم کو رول بیک کر دیا گیا ہے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ حکومت نے ہمیں ترمیم پڑھنے کی اجازت نہیں دی،
تحفظات کے باوجود ہم مشترکہ کمیٹی میں جانا چاہتے تھے، ہم کمیٹی میں اپنی تجاویز بھی رکھنا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترمیم پاس ہو جائے گی اللہ نہ کرئے  پاکستان فیل ہو جائے، یہ اگر انہوں نے ترمیم  کو پاس  کرواناہے تو طاقت کے زور پر  جو کرنا ہے کرتے جائیں، اس پر کوئی ڈبیٹ نہیں ہو رہی نا ہی دوسروں کا ان پٹ ہے، پارلیمان کی وقعت پہلے بھی نہیں تھی اب مزید نہیں رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہاں  پر لوگ لنچ کرنے آتے ہیں، ڈنر کرنے آتے ہیں، پی ٹی آئی  اور جے  یو آئی اپوازیشن جماعتیں ہے۔

ستائیسویں ترمیم پاس ہو گئی، اٹھائیسویں ترمیم کی تیاری کریں، فیصل واوڈا

میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم پاس ہو گئی ہے، وزیر اعظم نے زبردست کام کیا ہے میں  انکی قدر کرتا ہوں، وزیراعظم نے جمہوری روایت کے تحت ایک انتہائی اچھا اقدام کیا ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ خیبر پختونخواہ کے نام تبدیلی کے حوالے سے پیش کیے جانے کی ترمیم  بارے کیا کہیں گے؟ فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ ایمل ولی میرا دوست ہے، جیسا کہیں گے کر دے گا۔

صحافی نے سوال کیا کہ مولانا صاحب کو راضی کر لیں گے؟ فیصل واوڈا نے جواب دیا کہ مولانا ہمارے بڑے ہیں ہم ان سے سیاست سیکھتے ہیں، اب اس ترمیم میں دم نہیں رہا، اٹھائیسویں ترمیم کی تیاری کریں، ستائیسویں آئینی ترمیم سے جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے، یہ ہمارے ملک کی ضرورت ہے۔ اس سے ہمارا دفاع مضبوط ہو گا۔

گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کی شق وار متفقہ منظوری دے دی تھی، 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر غور اور منظوری کیلیے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی روم نمبر 5 میں چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے جواب دیا کہ فیصل واوڈا نے کہا کہ ترمیم کی انہوں نے کیا کہ

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن