وقف املاک کی رجسٹریشن میں توسیع کیلئے اسد الدین اویسی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں سماعت متوقع
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
ایڈووکیٹ پاشا نے قبل ازیں عدالت سے متفرق درخواست کی سماعت کرنے پر زور دیا تھا جس میں وقف املاک کے رجسٹریشن کیلئے وقت میں توسیع کی درخواست کی گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی کی درخواست پر سماعت کے لئے رضامندی ظاہر کی اور دوبارہ لسٹ کرنے پر اتفاق کیا جس میں امید (UMEED) پورٹل کے تحت "وقف بائی یوزر" سمیت تمام وقف املاک کے لازمی رجسٹریشن کے لئے وقت میں توسیع کی درخواست کی گئی ہے۔ قبل ازیں بنچ نے مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی اور دیگر کی عرضی کو اس معاملے پر 28 اکتوبر کو غور کے لئے لسٹ کیا تھا۔ تاہم اس پر سماعت نہیں ہو سکی۔ اسد الدین اویسی کی طرف سے ایڈووکیٹ نظام پاشا عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ پر زور دیا کہ اس معاملے کی فوری سماعت کی جائے کیونکہ اس سے پہلے کی تاریخ پر اس کی سماعت نہیں ہو سکتی تھی۔ اسد الدین اویسی کے وکیل نے کہا کہ وقف کی لازمی رجسٹریشن کے لئے چھ ماہ کی مدت ختم ہونے کے قریب ہے، جس پر سی جے آئی نے کہا کہ ہم جلد ایک تاریخ دیں گے۔
15 ستمبر کو ایک عبوری حکم میں سپریم کورٹ نے وقف (ترمیمی) ایکٹ، 2025 کی چند اہم دفعات کو روک دیا، جس میں یہ شق بھی شامل ہے کہ صرف کم از کم پانچ برسوں سے باعمل مسلمان ہی جائیداد وقف کر سکتے ہیں۔ حالانکہ عدالت نے پورے قانون پر روک لگانے سے انکار کر دیا اور اس کے حق میں آئین کے مفروضے کا خاکہ پیش کیا۔ وہیں عدالت نے نئے ترمیم شدہ قانون میں "وقف بائی یوزر" کی شق کو حذف کرنے کے مرکز کے فیصلے کو بھی تسلیم کیا۔ وقف بائی یوزر سے مراد وہ عمل ہے جہاں کسی جائیداد کو مذہبی یا خیراتی وقف (وقف) کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ جائیداد کے استعمال کی بنیاد پر اسے وقف تصور کیا جاتا ہے، چاہے مالک کی طرف سے وقف کا کوئی رسمی، تحریری اعلان نہ ہو۔
ایڈووکیٹ پاشا نے قبل ازیں عدالت سے متفرق درخواست کی سماعت کرنے پر زور دیا تھا جس میں وقف املاک کے رجسٹریشن کے لئے وقت میں توسیع کی درخواست کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک کے رجسٹریشن کے لئے ترمیم شدہ قانون میں چھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا اور پانچ مہینے فیصلے کے دوران گزر گئے، اب ہمارے پاس صرف ایک مہینہ باقی ہے۔ مرکز نے تمام وقف املاک کو جیو ٹیگ کرنے کے بعد ڈیجیٹل انوینٹری بنانے کے لئے چھ جون کو یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ، ایمپاورمنٹ، ایفیشنسی اینڈ ڈیولپمنٹ (UMEED) ایکٹ کا مرکزی پورٹل شروع کیا۔ امید پورٹل کے مینڈیٹ کے مطابق، ملک بھر میں تمام رجسٹرڈ وقف املاک کی تفصیلات چھ ماہ کے اندر لازمی طور پر اپ لوڈ کی جانی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رجسٹریشن کے لئے اسد الدین اویسی میں توسیع کی وقف املاک کے کی درخواست درخواست کی
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔