فیلڈمارشل کو استثنیٰ دینے سے آرٹیکل 6ختم نہیں ہوتا،رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ فیلڈمارشل کو استثنیٰ دینے سے آرٹیکل 6ختم نہیں ہوتا،آرٹیکل 6کا استثنیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافی کے سوال ’’نیشنل پارٹی نے ووٹ کاسٹ کرنے کی مخالفت کردی ‘‘کے جواب میں راناثنا اللہ نے کہاکہ حکومت کے پاس ترمیم کیلئے نمبر پورے ہیں،حکومت کو ترمیم کیلئے 65اراکین کی حمایت حاصل ہے۔
ایک اور سوال’’کیا آپ کا دورہ بلوچستان کامیاب رہا‘‘کے جواب میں وزیراعظم کے مشیر نے کہاکہ کامیابی آپ کو ابھی ایوان کے اندر نظر ا ٓ جائے گی،آج27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بہت سی باتیں کلیئر ہو جائیں گی۔ رانا ثنا اللہ کاکہناتھا کہ وزیراعظم اور ن لیگ اہم فیصلوں پر ہمیشہ نوازشریف سے رہنمائی لیتی ہے،جو بھی ہوا نوازشریف کی رہنمائی اور مشورے سے ہوا۔
نیویارک میں پاکستانی بزنس مین کا شوکت خانم کو ایک کروڑ روپے عطیہ کرنے کا اعلان، شعیب اختر اور ریما حیران رہ گئے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔