متحدہ عرب امارات غزہ کیلئے عالمی استحکام فورس میں شامل نہیں ہوگا، صدارتی مشیر
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
متحدہ عرب امارات غزہ کیلئے عالمی استحکام فورس میں شامل نہیں ہوگا، صدارتی مشیر WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی حکومت عالمی استحکام فورس برائے غزہ میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی، کیوں کہ اس کے لیے کوئی واضح فریم ورک موجود نہیں ہے،
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق یو اے ای کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے ابو ظہبی اسٹریٹجک ڈبیٹ فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یو اے ای ابھی تک اس استحکام فورس کے لیے کوئی واضح فریم ورک نہیں دیکھ رہا، اور ایسی صورتِ حال میں ممکنہ طور پر اس فورس میں حصہ نہیں لے گا‘۔
امریکی ہم آہنگی میں قائم بین الاقوامی فورس میں امکان ہے کہ مصر، قطر اور ترکی کے فوجی بھی شامل ہوں، اور ساتھ ہی یو اے ای بھی شامل ہو سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ یہ فورس ’بہت جلد‘ غزہ میں پہنچ جائے گی، کیوں کہ 2 سالہ جنگ کے بعد ایک نازک جنگ بندی قائم ہے۔
تیل سے مالامال یو اے ای چند عرب ممالک میں سے ایک ہے، جس کے اسرائیل کے ساتھ سرکاری تعلقات ہیں، جس نے 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران ابراہیم معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے غیر ملکی وفود اسلام آباد پہنچ گئے امریکا نے غزہ امن منصوبے کی فیصلہ سازی سے اسرائیل کو نکال دیا چینی صدر کے خصوصی ایلچی اور وزیر آبی وسائل لی گو اینگ کی بولیویا کے نئے صدر کی حلف برداری تقریب میں شرکت زہران ممدانی نے پاکستانی خاتون کو اپنی ٹیم کا سربراہ مقرر کر دیا چین کمبوڈیا کی ترقی اور خودمختاری کی حمایت جاری رکھے گا، چینی صدر امریکی جج کا بڑا فیصلہ: ٹرمپ کا نیشنل گارڈ کو پورٹ لینڈ بھیجنے کا حکم غیر قانونی قرار سفید فام افراد کی نسل کشی کا الزام: امریکا نے جنوبی افریقا میں ہونیوالے جی 20 اجلاس کا بائیکاٹ کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: استحکام فورس فورس میں
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔