امریکا کی قیادت میں تشکیل دی گئی بین الاقوامی فورس غزہ میں امن و استحکام کو یقینی بنائے گی: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں تشکیل دی گئی بین الاقوامی استحکام فورس جلد ہی غزہ میں تعینات کی جائے گی تاکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں جمعرات کو وسطی ایشیائی ممالک ازبکستان، کرغیزستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے صدور سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ “غزہ میں سب کچھ بہت بہتر جا رہا ہے، اور یہ فورس بہت جلد زمینی سطح پر اپنا کام شروع کرے گی۔”
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں ہوئی ہیں، لیکن مجموعی طور پر غزہ میں امن کی صورتحال بہتر ہے اور فائر بندی برقرار ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ خطے کے اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے تاکہ دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ قازقستان نے اسرائیل اور مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان ہونے والے ابراہیمی معاہدوں (Abraham Accords) میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے، اور امید ظاہر کی کہ دیگر وسطی ایشیائی ممالک بھی اس عمل میں شامل ہو کر اسے نئی قوت بخشیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پیر کے روز شامی صدر احمد شراع کے وائٹ ہاؤس دورے کے موقع پر ابراہیمی معاہدوں پر بات کریں گے، تو ٹرمپ نے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا، البتہ کہا کہ “وہ ایک سخت مگر بہترین رہنما ہیں، اور شام میں بہتری کے واضح آثار نظر آ رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ شام پر عائد پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ کئی ممالک، بشمول ترکی اور اسرائیل کی درخواست پر کیا گیا، تاکہ شام کو استحکام کا موقع دیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی جمعرات کو ووٹنگ کے ذریعے صدر احمد شراع اور شامی وزیر داخلہ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی منظوری دی ہے۔
خیال رہے کہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔