شاہ رخ خان کی 60ویں سالگرہ، بالی ووڈ کنگ نے اپنی کامیابی کا سہرا خواتین کے سر باندھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
بالی وڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان، جو آج اپنی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں، نے اپنی کامیابی اور شہرت کا کریڈٹ خود کو نہیں بلکہ اپنی زندگی کی خواتین اور اپنی فلموں کی ہیروئنز کو دیا ہے۔
شاہ رخ خان، جنہوں نے کئی بلاک بسٹر فلموں کے ذریعے فلمی دنیا میں اپنی منفرد پہچان بنائی، کا کہنا ہے کہ ان کی کامیابی میں ان کے ساتھ کام کرنے والی اداکاراؤں کا سب سے بڑا کردار ہے۔
یہ بھی پڑھیے: میں حیران رہ گئی کہ وہ میرا نام کیسے جانتے تھے، دیویا دتہ کی شاہ رخ خان سے پہلی ملاقات کا دلچسپ قصہ
ایک گفتگو میں دی گارڈین سے بات کرتے ہوئے شاہ رخ خان نے کہا کہ میں نے اپنے والد اور والدہ کو بہت جلد کھو دیا، لیکن میری زندگی کی خواتین خاص طور پر اداکاراؤں نے میرا بہت ساتھ دیا۔ جو کچھ میں آج ہوں، وہ انہی کی بدولت ہوں۔ وہ محنت کرتی ہیں، اور آخر میں کریڈٹ مجھے ملتا ہے کیونکہ میں شاہ رخ خان ہوں۔
انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ خواتین بھی وہی مقام حاصل کریں جو انہیں ملا، کیونکہ یہ ان کا حق ہے۔
شاہ رخ خان نے مثال دیتے ہوئے کہا، مدھوری دکشٹ نے میرے ساتھ رقص کے مناظر میں میرا ہاتھ تھاما، مگر دراصل وہی مجھے لیڈ کر رہی تھیں۔ جوہی چاولہ نے مجھے کامیڈی ٹائمنگ سکھائی، کاجول نے مجھے رونا سکھایا۔ وہ سب بے پناہ محنت کرتی ہیں، مگر فلم کے آخر میں نام میرا لیا جاتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہ حقیقت ہے اور میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا کہ میں آج جہاں ہوں، وہ عورتوں کی وجہ سے ہوں۔
یہ بھی پڑھیے: مکیش امبانی یا شاہ رخ خان، امیر ترین بھارتی کون؟ نئی فہرست جاری
اداکار نے مزید کہا کہ وہ اپنے انداز اور رویے کے ذریعے ان اداکاراؤں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان کے بقول ‘میری ساری شرافت، اچھا برتاؤ اور تمیز صرف اس بات کا اظہار ہے کہ میں ان خواتین کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ وہ ہر فلم میں شاندار کام کرتی ہیں، اور میں ان کا ہمیشہ احسان مند رہوں گا۔’
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اداکار بالی ووڈ شاہ رخ خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اداکار بالی ووڈ شاہ رخ خان شاہ رخ خان کہ میں
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔