Express News:
2026-07-24@04:36:07 GMT

امریکی شہریت بھی کام نہیں آ رہی

اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT

ویسے تو امریکی آئین کی نگاہ میں بلاامتیازِ رنگ و نسل و عقیدہ سب شہری برابر ہیں۔ دنیا کے کسی بھی حصے میں کوئی امریکی پھنس جائے ، پکڑا جائے یا کسی اور ریاست کے قانون کے مطابق سزا یافتہ بھی ہو جائے تب بھی امریکی انتظامیہ اس کی واپسی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی ہے ۔امریکی انتظامیہ چاہتی ہے کہ جرم کسی بھی سرزمین پر ہو مگر مقدمہ امریکی قانون کے تحت امریکی سرزمین پر چلے۔اور اس معاملے کو کئی بار قومی انا کا مسئلہ بھی بنا لیا جاتا ہے۔

مگر جب فلسطینی نژاد امریکیوں کا معاملہ ہو یا کسی غیر فلسطینی ( ریچل کوری ) کی ’’ غلطی ‘‘ سے ہلاکت کا سانحہ ہو یا اسرائیل بھولے سے امریکا کے درجنوں فوجی ( یو ایس ایس لبرٹی ) مار دے یا جان بوجھ کر کسی نوعمر امریکی کو قتل یا قید کردے تو امریکا اپنے ہی شہریوں سے لاتعلق ہونے میں دیر بھی نہیں لگاتا۔

مثلاً دوسرے انتفادہ کے عین عروج کے دور میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے وارننگ جاری کی کہ امریکی شہری اسرائیل ، غزہ اور غربِ اردن کے غیر ضروری سفر اور بلامقصد قیام سے پرہیز کریں۔

اس ہدائیت پر عمل کرتے ہوئے جب چار جون دو ہزار بائیس کو چالیس فلسطینی نژاد امریکی شہری وطن واپسی کے لیے تل ابیب کے بن گوریان ایرپورٹ پہنچے تو امیگریشن حکام نے انھیں روک لیا۔ان سے کہا گیا کہ اسکریننگ کے بعد واپسی کی اجازت ملے گی کہ کہیں وہ اسرائیل یا مقبوضہ علاقوں میں اپنے قیام کے دوران کسی ہنگامہ آرائی یا دھشت گردوں سے رابطوں یا ان کی مدد میں تو ملوث نہیں تھے۔امریکی وزیرِ خارجہ کولن پاویل کو اسرائیل سے ذاتی طور پر سر کھپا کے ان امریکی فلسطینیوں کی گلوخلاصی کروانا پڑی۔

سات اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے اسرائیل نے امریکی و مقامی کا امتیاز ختم کر دیا ہے۔ جنوری دو ہزار چوبیس میں نیو آرلینز کا رہائشی سترہ سالہ توفیق عبدالجبار کچھ عرصے کے لیے مغربی کنارے میں اپنے رشتے داروں سے ملنے آیا۔ ایک روز وہ مسلح یہودی آبادکاروں کے ہتھے چڑھ گیا اور اسے پولیس کی موجودگی میں گولی مار کے ہلاک کر دیا گیا۔اس کا قاتل تین روز بعد ضمانت پر رہا ہو گیا۔

 پام بے فلوریڈا کا رہائشی پندرہ سالہ محمد ابراہیم اپنے والد زاہر اور والدہ مونا کے ہمراہ تعطیلات گذارنے اس سال فروری میں مغربی کنارے کے شہر رملہ کے نواحی گاؤں مزرا الشرقیہ پہنچا۔اس گاؤں کو مغربی کنارے کا میامی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے اکثر باشندے ریاست فلوریڈا میں رہتے ہیں۔

ایک رات گھر کا دروازہ ٹوٹا ، مسلح اسرائیلی فوجی گھس آئے اور محمد ابراہیم کی آنکھوں پر پٹی باندھ کے فوجی گاڑی میں پٹخا اور بندوق کے بٹوں سے مارتے ہوئے اوفر ملٹری کیمپ میں لے گئے۔

فوجیوں نے گھر والوں میں سے کسی کو نہیں بتایا کہ بچے کا جرم کیا ہے۔اوفر کیمپ سے محمد ابراہیم کو تھانے میں منتقل کیا گیا۔جہاں اس سے ایک نقاب پوش افسر نے تفتیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم نے اعتراف نامے پر دستخط نہ کیے تو تمہیں اور مارا جائے گا۔محمد نے مزید تشدد کے خوف سے اعتراف نامے پر دستخط کر دیے۔اس میں اقرار کیا گیا کہ میں نے چند دیگر بچوں کے ہمراہ سڑک پر ایک آبادکار کی گاڑی پر پتھراؤ کیا ( اسرائیلی قانون کے مطابق پتھراؤ کی سزا بیس برس قید ہے ) ۔

محمد ابراہیم کو قید میں لگ بھگ نو ماہ بیت چکے ہیں۔یروشلم میں امریکی سفارت خانہ اس کے والدین کو کئی ماہ سے یقین دلا رہا ہے کہ رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔امریکی کانگریس کے ستائیس ارکان نے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائک ہوکابی کو مشترکہ خط میں محمد ابراہیم کو جلد از جلد رہا کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جیل میں قید محمد کو اب تک نہیں بتایا گیا کہ اس کے بیس سالہ سالہ کزن سعید مسلت اور دوست محمد الشلابی کو گیارہ جولائی کو اسرائیلی آبادکاروں نے المرا قصبے میں زمین پر قبضے کی مزاحمت کرنے پر مار مار کے قتل کر دیا۔

سعید مسلت بھی امریکی شہری تھا۔چنانچہ امریکی سفیر مائک ہوکابی کو بادلِ نخواستہ سعید کے گاؤں میں تعزیت کے لیے آنا پڑا۔مگر سفیرِ موصوف نے اسرائیلی حکومت کے ہاتھوں اپنے شہری کی ہلاکت پر ایک احتجاجی لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا۔دو امریکی سینیٹروں نے بھی سعید کے گھر جا کر تعزیت کی۔

گذرے ستمبر میں بچوں کی قانونی معاونت کرنے والی ایک اسرائیلی تنظیم ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل کی وکیل سحر فرانسس کو کئی انتظامی پاپڑ بیلنے کے بعد بالاخر محمد ابراہیم سے ملنے کی اجازت ملی۔سحر کا کہنا ہے کہ دورانِ قید محمد کا وزن تیس پاؤنڈ تک گر چکا ہے۔اس کی کوٹھڑی میں کل آٹھ بچے اور چار بینک بیڈ ہیں۔چوبیس گھنٹے میں دو بار کھانا ملتا ہے۔

یعنی ناشتے میں ایک بڑا چمچ دہی اور بریڈ کے چند ٹکڑے۔ دوپہر کو ایک کپ ابلے چاول ، ایک چھوٹا سوسییج اور کھیرے اور ٹماٹر کے دو تین ٹکڑے دیے جاتے ہیں۔محمد ابراہیم اور دیگر بچوں کو جلدی خارش ہو گئی ہے اور جسم اکثر کھجاتے رہنے سے خراشیں پڑ جاتی ہیں۔ان سب کو پتلے پتلے سے گدے ملے ہوئے ہیں جن کی کبھی دھلائی نہیں ہوتی۔سیل میں قرآنِ مجید کا ایک نسخہ بھی رکھا ہوا ہے۔ہفتے میں ایک بار نہانے کی اجازت ہے مگر قیدیوں کی قطار اتنی لمبی ہے کہ بہت سے بچوں کی باری نہیں آتی۔

اسرائیلی قید خانوں میں اس وقت اٹھارہ برس سے کم عمر کے لگ بھگ تین سو ساٹھ بچے قید ہیں۔ان میں سے چالیس فیصد پر کئی ماہ گزرنے کے بعد بھی باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں ہو سکی۔بیشتر بچوں کو سزا میں کمی کا لالچ دے کر اعترافی بیانات پر پیشگی دستخط کرانے کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا۔نہ ہی انھیں گھر والوں سے رابطے کی اجازت ہے۔

محمد ابراہیم کے مقدمے کی اگلی سماعت نو نومبر کو ہے اور والدین کو قوی امید ہے کہ شاید ان کا بیٹا رہا ہو جائے۔گزشتہ سماعت کے موقع پر محمد کے والد نے میڈیا سے کہا کہ اگر کوئی اور امریکی شہری اسی طرح وینزویلا کی قید میں ہوتا تو ٹرمپ اب تک چڑھائی کر چکا ہوتا۔

 مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو محمد ابراہیم اور اس کا قتل ہونے والا عم زاد سعید مسلت فلسطینی ہیں۔ لہٰذا وہ امریکی شہری ہیں یا نہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔وہ امریکی ہو کر بھی انصاف کی قطار میں پیچھے ہی رہیں گے۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محمد ابراہیم امریکی شہری کی اجازت اور اس کے بعد کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم