اقوام متحدہ نے شامی صدر احمد الشرع پر عائد پابندیاں ختم کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اقوام متحدہ نے شامی صدر احمد الشرع پر عائد پابندیاں ختم کر دیں WhatsAppFacebookTwitter 0 7 November, 2025 سب نیوز
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے صدر احمد الشرع پر عائد پابندیاں ختم کر دیں۔خبر ایجنسی کے مطابق شامی صدر احمد الشرع پر پابندی ہٹانے کی قرارداد امریکا کی جانب سے سکیورٹی کونسل میں پیش کی گئی جو 14 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔قرارداد کے مطابق صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس حسن خطاب کے نام داعش و القاعدہ پر عائد پابندیوں کی فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پابندیوں کے خاتمے کے بعد الشرع کے منجمد اثاثے بحال اور اسلحہ پابندی بھی ختم ہو جائے گی۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے احمد الشرع کی 10 نومبر کو وائٹ ہاس میں ملاقات سے قبل سامنے آیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکرپشن اور ناقص تفتیش پر ایف آئی اے کے 10 اہلکار برخاست،2کی تنزلی کرپشن اور ناقص تفتیش پر ایف آئی اے کے 10 اہلکار برخاست،2کی تنزلی غزہ کے لیے امریکی امن قرارداد، بین الاقوامی فوج کے اختیارات پر اختلاف کا خدشہ انڈونیشیا میں نماز جمعہ کے دوران دھماکا، 54 افراد زخمی افغان طالبان سے مذاکرات جاری، سوشل میڈیا کے کسی بیان پر دھیان نہ دیں: دفتر خارجہ آئینی عدالت کی ممکنہ تشکیل اور جگہ کے انتخاب سے متعلق بڑی پیش رفت غزہ میں استحکام کے لیے بین الاقوامی فورس بہت جلد تعینات کی جائے گی، امریکی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: صدر احمد الشرع پر
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔