شامی صدر احمد الشرعہ کا برازیل میں ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دمشق: شامی صدر احمد الشرعہ برازیل کے شہر بیلم میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی سربراہی اجلاس (COP30) میں شرکت کریں گے، یہ پہلا موقع ہے کہ کسی شامی صدر نے 1995 سے جاری اقوامِ متحدہ کے کلائمیٹ کانفرنس سلسلے میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔
صدر مملکت کے میڈیا دفتر کے مطابق احمد الشرعہ 6 اور 7 نومبر کو برازیل کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ بیلم میں منعقد ہونے والے عالمی ماحولیاتی اجلاس میں شریک ہوں گے، اس اجلاس میں دنیا بھر کے درجنوں ممالک کے سربراہان اور عالمی رہنما شرکت کر رہے ہیں تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق صدر الشرعہ بیلم میں اپنے خطاب کے دوران شام کی جانب سے ماحولیاتی بحالی، قابلِ تجدید توانائی اور جنگ زدہ علاقوں میں ماحول دوست اقدامات پر بات کریں گے۔
اجلاس کے اختتام کے بعد شامی صدر کے امریکا روانہ ہونے کا بھی امکان ہے، جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی سیاسی صورتحال، دہشت گردی کے خاتمے، اور شام کی تعمیرِ نو سے متعلق امور پر گفتگو متوقع ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام عالمی سطح پر سفارتی تعلقات کی بحالی کے عمل میں مصروف ہے اور ماحولیاتی تعاون کے ذریعے اپنی پالیسی کو ایک مثبت سمت میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کریں گے
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔