ایف بی آر کو جولائی تا اکتوبر 270 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
اسلام آباد(این این آئی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے دوران 270 ارب روپے کا ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے، ادارہ مقررہ ہدف کے مقابلے میں مطلوبہ ٹیکس ریونیو حاصل نہیں کر سکا۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر جولائی سے اکتوبر کے دوران 3 ہزار 840 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کر سکا جبکہ اسی مدت کے لیے 4 ہزار 109 ارب روپے کا ہدف مقرر تھا۔ذرائع کے مطابق ادارے نے اس عرصے میں 205 ارب روپے کے ریفنڈز بھی جاری کیے، صرف اکتوبر 2025 میں ایف بی آر کو 70 ارب روپے سے زائد شارٹ فال کا سامنا رہا، ماہ اکتوبر کے دوران 955 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا جبکہ 1026 ارب روپے کا ہدف مقرر تھا۔ٹیکس وصولیوں کی تفصیلات کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں 438 ارب روپے حاصل کیے گئے، سیلز ٹیکس کی مد میں 345 ارب روپے وصول ہوئے جبکہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی مد میں 70 ارب روپے جمع ہوئے، اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی سے 107 ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا گیا۔ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سمیت تمام شعبوں میں ریونیو مقررہ اہداف سے کم رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ارب روپے کا ایف بی ا ر کے مطابق
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔