وزیر داخلہ کا ٹی چوک فلائی اوور اور شاہین چوک انڈر پاس کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) اسلام آباد کے 2 میگا پراجیکٹس پر کام کی رفتار تیز۔ ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کا مجموعی طور پر 60 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔ فلائی اوور دسمبر کے اوائل میں ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔ شاہین چوک انڈر پاس بھی ایک ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ٹی چوک فلائی اوور اور شاہین چوک انڈر پاس منصوبوں کا دورہ کیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے دونوں منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا اور تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلائی اوور کی تکمیل سے جی ٹی روڈ سے مسافر سگنل فری ٹی چوک فلائی اوور منصوبے سے ٹریفک کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایت کی کہ شاہین چوک انڈر پاس پراجیکٹ کے تعمیراتی کاموں کی رفتار میں مزید تیزی لائی جائے۔ منصوبے پر بیک وقت 24/7 کام جاری رکھا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شاہین چوک انڈر پاس ٹی چوک فلائی اوور وزیر داخلہ
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔