زندہ رہنا سیکھئے! (حصہ اول)
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
اکثر لوگوں سے ملتے وقت محسوس ہوتا ہے کہ خوش نہیں ہیں۔ ماننا یا نہ تسلیم کرنا تو خیر ذاتی جذبہ ہے۔ اپنے اردگرد‘ انسانوں کے رویوں کو غور سے پڑھیے۔ فوری طور پر معلوم پڑ جائے گا‘ کہ خوشی کے ساتھ وقت کے دریا میں تیر رہے ہیں یا مجبوری میں صرف وقت گزار رہے ہیں۔ پختہ عمر کے مرد اور عورتوں میں تو خیر یہ الم زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ سنجیدہ عمرمیں ہوں ‘ اور اس عمر میں زندگی اور رشتوں کی اصلیت بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ یقین فرمائیے کہ میں نے دکھ اور رنج کو اپنی زندگی سے باہر نکال پھینکا ہے۔
یہ کس طرح ممکن ہوا ہے اس پر بعد میں عرض کرتا ہوں۔ جوانی میں پر مسرت رہنا بہت آسان ہے۔ آپ کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ شادی ہوتی ہے‘ جو بنیادی طور پر ذمے داری کی ایک اہم قسم ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میں وقت گزرتا ہے۔ قطعاً یہ نہیں کہہ رہا کہ نوجوان لوگ ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے۔ بالکل ہوتے ہیں مگر اس کی وجوہات‘ سنجیدہ عمر کے مقابلے میں یکسر مختلف ہوتی ہیں۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے انسان کی سوچنے کی قوت حیرت انگیز حد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس وقت کو ’’گیان‘‘ کی عمر کہا جاتا ہے۔ جب مرد اور عورت لاتعداد بہاریں دیکھ چکا ہوتا ہے تو اس کی اپنی زندگی میں خزاں ہی خزاں رہ جاتی ہے۔
اپنے آپ کو اکیلا محسوس کرتا ہے۔ اور یہ اکلاپا‘ اسے کھا جاتا ہے۔ پر یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اس سخت کوش کیفیت کو کسی طرح بدلا جائے؟ کون سا ایسا طرز زندگی اختیار کیا جائے کہ آپ کا ذہن بٹ جائے اور مزاج اور فہم مثبت طرز پر چلنا شروع کر دے۔ طالب علم کی نظر میں یہ بہت ہی آسان کام ہے۔ تمہید کے طور پر عرض کروں گا کہ جب ایم بی بی ایس کر رہا تھا تو میرا پسندیدہ شعبہ‘ سائیکٹری تھا۔ میرے ذہن میں کبھی یہ نہیں آیا کہ میں سرجن بنوں یا میڈیسن کا کامیاب اور نامور طبیب بنوں۔ پوری کوشش تھی کہ انسانی ذہن کو سمجھ سکوں اور اس کے لیے میں نے بہت کچھ پڑھا۔
سائیکٹری وارڈ میں جا کر ‘ مریضوں سے ان کی ذہنی کیفیت معلوم کرنے کے لیے گھنٹوں بلکہ کئی بار دنوں پر مبنی گفتگو کرتا رہا۔ ان کے مرض کو جاننے کے بعد‘ اس کا علاج بھی کرتا رہا۔ مگر مجھے یہ احساس ضرور ہوا کہ ہمارے ملک میں انسانوں کا بہت بڑا مسئلہ‘ ان کی زندگی میں خوشی کے عنصر کا بہت کم ہونا ہے۔ حوادث زمانہ کے تھپیڑے ان کے ذہنوں کو اس طرح جکڑے ہوتے ہیں کہ ان کے قیدی بن جاتے ہیں۔
ان منفی عناصر سے باہر نکلنے کا سوچتے تک نہیں ہیں۔ اس طرز عمل کی بدولت‘ مزید ذہنی پیچیدگیوں کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دراصل انسانی ذہن کو آج تک مکمل طور پر کوئی بھی نہیں سمجھ پایا۔ شواہد صرف یہی ہیں کہ پانچ سے دس فیصد سے زیادہ‘ سائنس کو ادراک ہی نہیں ہے کہ انسانی فکر اور جذبات کی ہیئت کیا ہے۔ عظیم ترین فلسفی بھی ‘ اس نازک جگہ پر خاموش نظر آتے ہیں۔ ویسے کیا یہ بذات خود ایک سانحہ نہیں ہے کہ انسان کے سب سے اہم ترین جزو ِزندگی کے متعلق ہم بہت ہی کم جانتے اور اس سے بھی کم سمجھتے ہیں۔
یہاں سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا انسان کو ہمارے جیسے تضادات سے بھرے سماج میں اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ اس کی کیفیت کے متعلق کوئی بات ہی نہ کی جائے۔ نہیں صاحب‘ ایسی کوئی مجبوری نہیں کہ ہم بہتری کی کوشش ہی ترک کر دیں۔ کوئی حتمی بات نہیں کر رہا، صرف یہ گزارش کر رہا ہوں کہ دکھوں کی پر خار وادی کو مضبوطی سے عبور کر کے آگے نکلیے ۔ خوشبوئیں اور رنگوں کا میدان آپ کا منتظر ہو گا۔ انسانی ذہن کو پڑھنے کی کوشش ضرور کرتا رہا ہوں۔ مگر ‘ کبھی بھی عام لکھاریوں کی طرح یہ بیانیہ نہیں بنایا کہ Motivational Speaker یا motivatorبنوں۔ مجھے ان دونوں الفاظ سے اتنی ہی الجھن ہے جتنا کہ ان لوگوں سے‘ جو ہر جگہ جاہلانہ باتیں کر کے لوگوں کو مرعوب کرتے نظر آتے ہیں۔ داد کے ساتھ ساتھ پیسے بھی سمیٹتے ہیں۔ چلیے چھوڑیے۔ آپ زندگی کے کسی بھی حصے میں ہیں، دنیا کے کسی بھی ملک میں ہیں۔
سب سے پہلے‘ یقین ِمحکم کیجیے کہ آپ اس دنیا کے اہم ترین جزو ہیں۔ کائنات کی ہر چیز ‘ آپ اور صرف آپ ہی کی خدمت پر مامور ہے۔اپنی اہمیت کو پہچانیے اور اس کی قدر کیجیے۔ بھول جایئے کہ مختلف عزیزوں یا دوستوں یا نظام نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ عمر کو بالائے طاق رکھیے، بغیر کسی سہارے اور ساتھ کے‘ معمولی سی ورزش کی جانب فیصلہ فرمایئے۔ خدانخواستہ اگر کوئی ایسی بیماری ہے جس کی وجہ سے آپ چل پھر نہیں سکتے۔
اس کے باوجود ‘ بستر سے اٹھنے کی کوشش ضرور کیجیے۔ تھوڑے سے قدم اٹھایئے ۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو ایک ایسا نکتہ عرض کرتا ہوں جس سے آپ کاوقت بھرپور طریقے سے گزرے گا۔ رنگین مچھلیوں کا چھوٹا سا اکویورم Aquarium اپنے کمرے میں ایسی جگہ رکھ لیجیے جہاں آپ انھیں ہر وقت دیکھ سکیں۔ اس کی چھوٹی چھوٹی رنگین مچھلیوں کو پانی میں گھومتے پھرتے دیکھ کر‘ وقتی طور پر آپ کے دماغ میں منفی خیالات کم سے کم ہوتے چلے جائیں گے۔ اس مشورہ کو بالکل ناقدری کی نگاہ سے نہ دیکھیے ۔ کیونکہ‘ جدید تحقیق کے لحاظ سے‘ مچھلیوں کو دیکھنے کی یہ عادتStress اور Monotonyکو ختم کرنے کے لیے بہترین عمل ہے۔
آیئے، اب اپنی عمر کے حساب سے ہلکی پھلکی ورزش شروع کیجیے۔ جو مرضی ہو جائے ‘ کیسا بھی موسم ہو۔ اپنی جسمانی ورزش کو ہفتے میں چھ دن مسلسل کرتے رہیں۔ صرف ایک دن چھٹی کیجیے۔ واک ‘ ہر عمر کے لیے ایک کمال ورزش ہے۔ پیدل چلنے سے جو ذہنی اور جسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ وہ بیان سے باہر ہیں۔ معاملہ کو آگے بڑھایئے ۔ اگر جوگنگ کر سکتے ہیں تو ضرور کیجیے۔
تیز دوڑیئے ‘ پسینہ نکالیے‘ اپنے آپ کو تھکا دیجیے ۔ دنوں میں اپنے آپ کو بہتر محسوس کرنے لگیں گے۔ جسمانی ورزش کو بالکل اس طرح سمجھیے جیسے یہ ایک مقصد حیات ہے۔کسی بھی طرح کی جسمانی حرکت‘ ذہن کو سکون بخشے گی۔ نیند بہتر ہوجائے گی۔ نیند کی گولیوں کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ صرف یہ سوچیے کہ ‘ کسی کے لیے نہیں ۔ اپنے لیے ‘ صرف اپنی ذات کے لیے بہتری کے کام کر رہے ہیں۔
آگے بڑھیے۔ اپنی غذا کی مقدار پر خود قابو حاصل کیجیے۔ کھانے کی زیادتی یا کمی ‘ دونوں خطرناک عوامل ہیں۔ بہت سی ذہنی الجھنیں ایسی ہیں جن میں انسان کا اپنے کھانے پر کنٹرول مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ انسان ہر وقت کھاتا رہتا ہے۔ اس کی بھوک ختم ہی نہیں ہوتی۔ متضاد رویہ یہ بھی ہے‘ کہ انسان‘ کھانا بہت ہی کم کر دیتا ہے۔ کئی بار تو اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ اسے غذا کی ضرورت ہے بھی یا نہیں؟ یہ دونوں علامات صرف ایک امر کی ہیں کہ آپ شدید ذہنی دباؤ میں ہیں۔ صحت کی کنجی یہ ہے کہ ‘ اپنے کھانے کی مقدار کو ترتیب دے دیں۔ قطعاً یہ عرض نہیں کر رہا کہ ہر وقت مٹن‘ فش اور مہنگی اشیاء کھایئے۔ دالیں‘ سبزیاں اور سلاد کو فوقیت دیں۔ Carbohydrates جیسے روٹی ‘ چاول اور اس قماش کی چیزوں کو کم سے کم کر دیں۔ پانی زیادہ استعمال کریں۔ ہاں اگر آپ اتنی قوت رکھتے ہیں تو ایک دن بالکل کھانا نہ کھائیں ۔ صرف پانی پئیں۔ Interimittent Fasting کی طرف اشارہ کر رہا ہوں۔یہ فاقہ کشی اندر سے اتنا مضبوط کر دے گی کہ آپ خود حیران رہ جائیں گے۔
ہاں‘ پھلوں کو اپنی غذا بنا لیجیے ۔ مہنگائی کے اس دور میں‘ امردو‘ کینو‘ تربوز اور اس طرح کے سستے پھلوں کی طرف متوجہ ہوں۔بلکہ دن رات میں ایک کھانا ترک کر کے صرف اور صرف پھل استعمال کیجیے۔ اپنی ذات کے مالک آپ خود ہیں۔ کھانا اپنے اختیار میں ہے۔ پوری ذہنی طاقت سے اسے قابو میں لایئے۔ جو کھا رہے ہیں اسے ایک ڈائری پر لکھنا شروع کر دیں۔ تھوڑے ہی عرصے میں‘ ایک حیرت انگیز تبدیلی آئے گی۔ احساس ہو جائے گا کہ کتنی غیر ضروری اشیاء کھاتے چلے جا رہے ہیں۔ کوئی لیکچر نہیں دے رہا، عام سی باتیں کر رہا ہوں۔ یہ ہر ایک کے علم میں ہیں۔ مگر اکثریت ان کی اہمیت کو نظر انداز کر دیتی ہے۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے عرض کرونگا کہ اپنے پورے دن اور رات پر غور کیجیے۔ دنیا میں اربوں لوگ رہتے ہیں۔ ہر ایک کے پاس صرف چوبیس گھنٹے ہی ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اس محدود وقت میں‘ اتنے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دے ڈالتے ہیں کہ ان کا نام امر ہو جاتا ہے۔
صدیاں گزر جاتی ہیں مگر وہ زندہ رہتے ہیں۔ مگر اکثریت ان چوبیس گھنٹوں کو اس بے دردی سے ضایع کرتی ہے کہ رزق ِخاک بننے کے بعد‘ ان کا نام تک کسی کو یاد نہیں رہتا۔ اپنے دن اور رات کے اوقات احتیاط سے ترتیب کریں۔ اس روٹین میں بالکل نئے شوق شامل کریں۔ انھیں بہتر بنانے کی کوشش کریں۔اپنی عمر اور استطاعت کے حساب سے کوئی نیا ہنر سیکھئے ۔ اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو کوشش کر کے ایک نئی ہابی کو زندگی میں استوار کیجیے ۔پرندے ‘ جانوروں اور سبزے پر توجہ دیجیے ۔مگر جو چیز مناسب نہیں لگتی اس سے مکمل اجتناب کیجیے ۔
(جاری ہے۔)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہوتے ہیں کہ انسان رہے ہیں کی کوشش رہا ہوں میں ہیں جاتا ہے عمر کے کر رہا اور اس کے لیے ہیں کہ ذہن کو
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔