دنیا ایک نئے عالمی موڑ پر، خود مختاری کا اُبھرتا ہوا بیانیہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ایران نے یہ بیج مشرقِ وسطیٰ میں بویا، سوڈان نے افریقہ میں اسے مضبوط کیا اور نیویارک کے عوام نے مغرب میں اسے آواز دی۔ دنیا اب طاقت کی نہیں، اصول کی سیاست کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک ایسا عہد ہے، جہاں قومیں اپنی تقدیر خود لکھنا چاہتی ہیں اور عالمی طاقتوں کے پرانے کھیل کے لیے جگہ تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ وقت فیصلہ کرے گا کہ امریکہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاتا ہے یا ایک نئے تصادم کی راہ ہموار ہوتی ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ دنیا اب پرانی نہیں رہی۔ دنیا اب ڈکٹیٹرشپ سے نکل کر اپنے فیصلے اپنے ایوانوں میں کرنا چاہتی ہے، ایسے فیصلے جو انسانی اصولوں پر قائم ہوں، نہ کہ استعماریت و سامراجیت پر۔ تحریر: سید عدنان زیدی
دنیا ایک نئے سیاسی و نظریاتی موڑ پر کھڑی ہے۔ ایران، سوڈان، حزب اللہ اور نیویارک۔۔۔۔ بظاہر چار مختلف محاذ، مگر ایک ہی پیغام دے رہے ہیں کہ خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ یہ چار خبریں اس ہفتے عالمی سیاست کا رخ بدلنے کی طرف واضح اشار ہ کر رہی ہیں، جہاں اصول، غیرت اور خود مختاری کے تصورات دوبارہ زندہ ہوتے نظر آرہے ہیں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں رہبرِ مسلمین کی اُن شرائط پر، جو انہوں نے ایران و امریکہ تعلقات کی بحالی کے لیے عائد کیں، جنہوں نے ایران کا اصولی مؤقف پوری دنیا پر واضح کر دیا۔ رہبرِ مسلمین نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے تین واضح اور اصولی شرائط رکھ دیں: 1۔ امریکہ اسرائیل کی حمایت مکمل طور پر ختم کرے۔ 2۔ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈے بند کرے۔ 3۔ خطے کے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے۔
یہ صرف سفارتی نہیں بلکہ نظریاتی اعلان ہے کہ طاقت مفاد سے نہیں بلکہ اصول سے پیدا ہوتی ہے۔ ایران کا یہ پیغام دراصل مشرقِ وسطیٰ میں نئی خود مختار پالیسی کا آغاز ہے، جہاں کسی بھی طاقت کو "دباؤ" کے بجائے "برابری" کی سطح پر بات کرنی ہوگی۔ ایران نے لبنان کی حمایت پر مبنی اپنے بیانیے میں اسرائیل کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر لبنان میں حزب اللہ پر حملہ کیا گیا تو یہ جنگ صرف لبنان تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایران اس جنگ میں شامل ہو کر حزب اللہ اور لبنان کا مکمل دفاع کرے گا، یہ وارننگ تین سمتوں میں گئی:
اسرائیل کے لیے: اگر حملہ کرو گے تو کئی محاذ کھل جائیں گے۔
امریکہ کے لیے: ایران اب صرف دفاع نہیں بلکہ پیش قدمی کی پالیسی پر گامزن ہے۔
عرب دنیا کے لیے: ایران خطے کی قیادت کے لیے تیار ہے۔
یہ پیغام ظاہر کرتا ہے کہ ایران اب ردِعمل نہیں بلکہ عمل کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران اب طاقت کے ساتھ ہر منفی قوت کا سر کچلنے کے لیے آمادہ ہے اور وقت سے پہلے ہر جارحیت کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جیسا کہ 12 روزہ جنگ میں ایران نے ثابت کیا۔ دنیا نے دیکھا کہ ایرانی میزائلوں نے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے امریکہ و اسرائیل کے دعووں کو کس طرح کھوکھلا کر دیا اور انہیں جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا۔ قارئینِ محترم! خطے کی طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے، جہاں ایران ایک مضبوط جغرافیائی و نظریاتی قوت کے طور پر اُبھر رہا ہے۔ اسی دوران افریقہ کے ملک سوڈان کے وزیرِاعظم کامل ادریس نے ایک بڑا اعلان کیا ہے، جس کے بعد سوڈان کے اندر مسلط کردہ جارحیت کے خلاف مزاحمت کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے۔
واضح رہے کہ مصر اور ایران کے تعاون سے کئی مقامات پر سوڈانی مزاحمت کاروں نے دہشت گرد گروہوں کے قافلوں کو تباہ کیا ہے۔ سوڈانی وزیرِاعظم نے ریپڈ سپورٹ فورس (RSF) کو دہشت گرد گروہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ وہ گروہ ہے، جو دارفور اور فاشر میں شہریوں کے قتلِ عام میں ملوث سمجھا جاتا ہے اور جس کی مکمل پشت پناہی امریکہ اور متحدہ عرب امارات کر رہے ہیں۔ معاملہ وہی پرانا ہے، معدنیات کا، مفاد کا اور انسانی جانوں کی قیمت پر تسلط کا۔ سوڈانی وزیرِاعظم نے اقوامِ متحدہ کی امن فورس کی تعیناتی کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ "بین الاقوامی افواج سوڈان کی خود مختاری کے لیے خطرہ ہیں۔" یعنی سوڈان انصاف بھی چاہتا ہے، لیکن اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ یہ افریقہ میں ایک نئی فکری لہر اور مزاحمتی سوچ کا آغاز ہے، جہاں مقامی قیادت عالمی طاقتوں کے اثر سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
امریکہ جو تہران میں رجیم چینج کا خواب دیکھ رہا تھا، خود نیویارک کے اندر رجیم چینج کی فضا کا شکار ہے۔ ٹرمپ اور اسرائیل دونوں ہی اپنی حمایت کے گراف میں زبردست گراوٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔ نیویارک کے میئر کے انتخابات میں زہران ممدانی کی جیت نے سیاسی فضا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ جیت صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری تبدیلی ہے۔ تین چیزیں اب واضح ہوچکی ہیں۔ 1۔ ٹرمپ ازم کی مقبولیت زوال کا شکار ہے۔ 2۔ اسرائیل مخالف بیانیہ امریکی سیاست میں جگہ بنا رہا ہے۔ 3۔ نئی نسل انسانی بنیادوں پر سیاست چاہتی ہے، اندھی وفاداری نہیں۔ اگرچہ زہران ممدانی مذہبی یا نظریاتی سیاستدان نہیں، لیکن ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی عوام بھی اب انصاف پر مبنی سیاست چاہتے ہیں۔
یہ چاروں واقعات بظاہر الگ الگ ہیں، لیکن اصل میں ایک نئی عالمی لہر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایران نے یہ بیج مشرقِ وسطیٰ میں بویا، سوڈان نے افریقہ میں اسے مضبوط کیا اور نیویارک کے عوام نے مغرب میں اسے آواز دی۔ دنیا اب طاقت کی نہیں، اصول کی سیاست کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک ایسا عہد ہے، جہاں قومیں اپنی تقدیر خود لکھنا چاہتی ہیں اور عالمی طاقتوں کے پرانے کھیل کے لیے جگہ تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ وقت فیصلہ کرے گا کہ امریکہ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لاتا ہے یا ایک نئے تصادم کی راہ ہموار ہوتی ہے، لیکن ایک بات طے ہے کہ دنیا اب پرانی نہیں رہی۔ دنیا اب ڈکٹیٹرشپ سے نکل کر اپنے فیصلے اپنے ایوانوں میں کرنا چاہتی ہے، ایسے فیصلے جو انسانی اصولوں پر قائم ہوں، نہ کہ استعماریت و سامراجیت پر۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خود مختاری نیویارک کے نہیں بلکہ ایران نے ایک نئے رہے ہیں دنیا اب کرے گا کے لیے رہی ہے
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔