پی آئی اے کا بین الاقوامی آپریشن زیادہ متاثر
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
ایئر کرافٹ انجنیئرز کے احتجاج کی وجہ سے قومی ایئرلائن کا بین الاقوامی آپریشن زیادہ متاثر ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور سے مدینہ اور کراچی کی پروازین پی کے 747 اور 744 متاثر ہوئی ہیں۔ اسلام آباد سے جدہ اور پشاور کی پروازیں پی کے 741 اور 736 بھی متاثر ہوئی ہیں۔
کراچی سے جدہ اور جدہ سے کراچی کی پروازیں پی کے 761 اور 832 ہوگئیں۔
اسی طرح لاہور سے ابوظہبی اور ابوظہبی سے لاہور کی پروازیں پی کے 263 اور 264، اسلام آباد سے دبئی اور پشاور کی پروازیں پی کے 233 اور 284 معطل ہوگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی اسلام آباد سے دمام اور اسلام آباد کی پروازیں پی کے 245 اور 246 معطل ہوگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق رات 8 بجے کے بعد سے کوئی بین الاقوامی پرواز روانہ نہیں ہو سکی ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی پروازیں پی کے اسلام آباد
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔