ایئر کرافٹ انجینیئرز کا احتجاج، قومی ایئر انتظامیہ آپریشن بحال رکھنے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
ایئر کرافٹ انجینیئرز کے احتجاج کے باوجود بھی قومی ایئر انتظامیہ آپریشن بحال رکھنے میں کامیاب ہو گئی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق قومی ایئر لائن انتظامیہ آپریشن کی بحالی کے لیے متبادل ذرائع استعمال کر رہی ہے، ملک بھر سے قومی ایئر کی 16 مقامی اور بین الاقوامی پروازیں روانہ کر دی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بحرانی صورتِ حال کی وجہ سے ملک بھر کی 12 پروازیں منسوخ کی گئی ہیں جبکہ قومی ایئر لائن کی 40 سے زائد پروازیں شدید متاثر ہیں۔
دوسری جانب ترجمان قومی ایئر لائن کا کہنا ہے کہ انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے گزشتہ رات جہازوں کی کلیئرنس روکنا شروع کی گئی، سازش کا مقصد آپریشنز کو روک کر فضائی نظام کو مفلوج کرنا تھا اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا تھا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ پروازوں کو بحال رکھنے کے لیے متبادل ذرائع استعمال کر رہے ہیں
ترجمان نے کہا کہ شعبہ انجینئرنگ کے کلیدی عہدیداروں کے ساتھ مل کر متبادل ذرائع سے آپریشنز کو کامیابی سے بحال کیا ہے، غیرقانونی کام چھوڑنے سے قومی ایئر لائن کی کچھ پروازوں کو تاخیرم اور منسوخی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ پی کے 783 کراچی تا ٹورنٹو اور پی کے 701 اسلام آباد تا مانچسٹر بروقت روانہ ہو گئیں۔ لاہورسے مدینہ کی پرواز پی کے 747 کو 14 گھنٹے کی تاخیر کے بعد روانہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح کراچی سے جدہ کی پرواز پی کے 761 بارہ گھنٹے تاخیر سے روانہ ہو گئی۔ اسلام آباد سے دبئی کی پرواز پی کے 233 کو 9 گھنٹے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، اسلام آباد سے دمام پی کے 245، سیالکوٹ سے ریاض پی کے 755 کی پروازیں7، 7 گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئیں۔
ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد سے جدہ کی پرواز پی کے 741 چھ، کراچی سے اسلام آباد کی پرواز پی کے 300چار گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئی۔
قومی ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ آپریشنل بوجھ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے مجموعی طور پر 5 پروازیں منسوخ کی گئیں، تمام مسافروں کو متبادل پروازوں کی پیشکش کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قومی ایئر لائن کی پرواز پی کے گھنٹے تاخیر اسلام آباد کا کہنا کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.