طیارہ انجینئرز کا احتجاج، پی آئی اے کا فضائی آپریشن معطل
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے طیارہ انجینئرز کے ملک گیر احتجاج کے باعث قومی فضائی کمپنی کا آپریشن شدید متاثر ہو گیا ہے۔
فوٹو نیوز کے مطابق انجینئرز نے انتظامیہ کے رویے کے خلاف بطور احتجاج تمام طیاروں کی روانگی کی کلیئرنس روک دی ہے، جس سے درجنوں اندرون و بیرونِ ملک پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پی آئی اے انتظامیہ اور سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (SAEP) کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں انجینئرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ کام اس وقت تک بحال نہیں کریں گے جب تک چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کا رویہ بہتر نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری میں بین الاقوامی ایئر لائنز کی عدم دلچسپی پر سینیٹ کمیٹی کا اظہارِ تشویش
انجینئرز کی ہڑتال کے باعث متعدد اہم بین الاقوامی اور ملکی پروازیں معطل ہو گئیں، جن میں نمایاں ہیں:
لاہور سے مدینہ (PK747، PK744)
اسلام آباد سے جدہ (PK741، PK736)
کراچی سے جدہ (PK761، PK832)
کراچی–لاہور–ابوظہبی (PK263، PK264)
کراچی–اسلام آباد–دبئی اور پشاور روٹس (PK233، PK284)
ذرائع کے مطابق رات 8 بجے کے بعد کراچی ایئرپورٹ سے کوئی بین الاقوامی پرواز روانہ نہیں ہو سکی کیونکہ انجینئرز نے کسی بھی طیارے کو اڑان کی کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کا برطانیہ کے لیے فضائی آپریشن بحال، 5 سال بعد پہلی پرواز مانچسٹر پہنچ گئی
دوسری جانب، پی آئی اے کے سی ای او نے چیف ایچ آر آفیسر کو ہدایت دی ہے کہ احتجاج میں شامل انجینئرز کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ سی ای او کے مطابق، جن انجینئرز نے پروازوں میں خلل ڈالا ہے، انہیں نتائج بھگتنا ہوں گے۔
یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی آئی اے نے 5 سال بعد برطانیہ کے لیے پروازیں بحال کی تھیں۔ حال ہی میں قومی ائیرلائن نے مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار 2 پروازوں کا آغاز کیا تھا، جسے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی سنگِ میل قرار دیا تھا۔ تاہم موجودہ احتجاج سے پی آئی اے کی عالمی ساکھ اور آپریشنل بحالی کو ایک بار پھر شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی آئی اے طیارہ انجینئرز کا احتجاج فضائی آپریشن معطل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے طیارہ انجینئرز کا احتجاج پی آئی اے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔