یاسین ملک کے لیے سزائے موت کا بھارتی مطالبہ ، سماعت 28 جنوری تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(فائل فوٹو)
نئی دہلی:۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین یاسین ملک کو سزائے موت دینے کی بھارتی حکومت کی درخواست کی سماعت 28 جنوری کو نئی دہلی ہائی کورٹ میں ہوگی۔
پیر کودرخواست کی سماعت کے موقع پر محمد یاسین ملک کو عدالت میں پیش کرنے پر پابندی رہی، تاہم انہیں ویڈیو لنگ کے ذریعے پیش کیا گیا۔
بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے وکیل اکشائی ملک پیش ہوئے اور عدالت سے درخواست کی کہ کارروائی کو خفیہ رکھا جائے اور ایک نجی ورچوئل لنک فراہم کیا جائے جو عوام کے لیے قابل رسائی نہ ہو۔
اس موقع پر جسٹس ویک چودھری اور منوج جین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ایجنسی کی درخواست پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔ یاسین ملک کو نئی دلی کی تہاڑ جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔
یاسین ملک نے ایک جھوٹے مقدمے میں انہیں سزا ئے موت دلانے کے لیے دائر اپیل کے جواب میں کہا کہ میری اپیل میں طویل تاخیر افسوس ناک ہے، یاسین ملک اور دیگر کشمیری رہنما جو بغیر شواہد اور بغیر ثبوتوں کے پابند سلاسل ہیں انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ٹیسٹ کیس ہیں، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں کو بھارت پریہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو بہتر کیے بغیر خطے میں امن کا قیام خواب ہی رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔