City 42:
2026-07-24@02:45:56 GMT

آئین میں27ویں ترمیم کیا ہے؛مکمل تفصیل سامنےآگئی

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

    سٹی42: پاکستان کے آئین میں مجوزہ ستائیس ویں ترمیم کے اہم نکات میں سر فہرست آئینی عدالت کا قیام، آرٹیکل (3) 184 کے تحت سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کا متنازعہ ہو جانے والا اختیار ختم کرنا، صدرِ مملکت کو فوجداری مقدمہ سے تاحیات استثنا حاصل ہونا اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا سیریمونیل عہدہ ختم کر کے پاکستان آرمی کے چیف کو "چیف آف ڈیفینس فورسز" کی ذمہ داری سونپنا  شامل ہیں۔

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ آج سینیٹ میں پیش ہوگا  

 مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی منظوری کے بعد مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ آج سینیٹ سے منظور ہوگیا ۔

آئین میں27ویں ترمیم کا مسودہ سینیٹ  میں پیش کیا گیا تھا  ۔ سینیٹ کے چئیرمین نے اس مسودہ کو تکنیکی غور و خوض کے لئے سٹینڈنگ کمیٹی کو بھیجا تھا ، کمیٹی اس مسودہ پر بحث و تمحیث کر کے، اس میں ارکان کی بحث کے ساتھ ضروری تبدیلیاں کر کے دوبارہ سینیٹ میں پیش کر نے کے  بعد سینیٹ اس کو منظور یا منظور کرنے کے لئے ووٹنگ  ہوئی ۔ سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد اب  یہ مسودہ  قومی اسمبلی میں جائے گا۔

بلوچستان میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری اور منہ ڈھانپنے پر پابندی لگ گئی

 وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی
مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائےگی۔وفاقی آئینی عدالت میں ہر صوبے سے برابر تعداد میں جج مقرر کئے جائیں گے۔   

سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں آئینی عدالت کے فیصلوں کی پابند

وفاقی آئینی کورٹ کے فیصلےکی سپریم کورٹ سمیت پاکستان کی تمام عدالتیں پابند ہوں گی۔

عمان میں دو روزہ سرکاری تعطیلات کا اعلان

 سپریم کورٹ کا کوئی جج وفاقی آئینی عدالت کا جج بننے سے انکار کرے گا تو ریٹائر تصور ہوگا۔

آئینی عدالت کے جج کون ہوں گے

چیف جسٹس آف پاکستان آئینی کورٹ اور ججوں کا تقرر صدر کریں گے۔

 وفاقی آئینی عدالت کے جج 68 سال کی عمر تک عہدے پر کام کریں گے۔

 آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر تین سال کےلئےہوگا۔

 صدر سپریم کورٹ کے ججز میں سے وزیراعظم کی ایڈوائس پر وفاقی آئینی کورٹ کا پہلا چیف جسٹس تقرر کرے گا۔ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججز کا تقرر صدر وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیف جسٹس فیڈرل آئینی کورٹ سے مشاورت سے کرےگا۔

 سلواکیہ: 2 ٹرینوں میں تصادم

آئینی عدالت کے چیف جسٹس اپنی تین سالہ مدت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو جائیں گے۔جب بھی ضرورت پڑا کرےگی،  صدر مملکت  آئینی عدالت کے کسی جج کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا کریں گے۔

  

آئینی عدالت کیا کرےگی؟

صدر مملکت  قانون کی تشریح سے متعلق کوئی معاملہ رائے حاصل کرنے کے لیے وفاقی آئینی عدالت کو بھیجیں گے۔

 وفاقی آئینی عدالت اپنےکسی فیصلے پر نظرثانی  بھی خود کرے گی۔

پاک افغان کشیدگی، ترک اعلیٰ حکام آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کرینگے؛ صدر اردوان

ہائی کورٹ کے جج کا تبادلہ کون کرے گا

 ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں کا اختیار  جوڈیشل کمیشن کو دیا جائےگا۔ اگرکوئی جج  ٹرانسفر ماننے سے انکار کرےگا تو  وہ ریٹائر تصور کیا جائےگا۔

ہائی کورٹ کا کوئی جج وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ میں تقرری کو قبول نہیں کرے گا تو ریٹائر تصور ہوگا۔ 

ہائی کورٹ کے کیس کا تبادلہ کون کرےگا

 آئینی کورٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہائی کورٹ سے کوئی اپیل یا کیس اپنے پاس یا کسی اور ہائی کورٹ میں ٹرانسفر کرنےکا اختیار ہوگا۔

از خود نوٹس سے متعلق 184 کا خاتمہ
مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق قانون سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجنے کی شق ختم کر دی گئی ہے از خود نوٹس سے متعلق 184 بھی حذف کر دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلےکے سوائے آئینی عدالت کے تمام عدالتیں پابند ہوں گی
مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق  سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابندی آئینی عدالت کے سوا تمام عدالتوں پر لازم ہو گی۔

صدر  مملکت کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی نہیں ہوگی
 مجوزہ آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان کے صدرِ مملکت تاحیات فوجداری مقدمہ سے مستثنیٰ تصور ہوں گے۔کوئی عدالت صدر مملکت  کی گرفتاری یا جیل بھیجنےکے لیےکارروائی نہیں کرسکےگی۔

اب تک قانون کے مطابق کسی صدرِ مملکت کے خلاف  ان کے عہدہ پر فائض رہنے کے دوران کوئی فوجداری مقدمہ نہیں بنتا تاہم عملاً کسی صدر مملکت کے عہدہ سے سبکدوش ہو جانے کے بعد بھی ان کا احترام برقرار رہتا ہے اور ان پر مقدمہ نہیں بنایا جاتا۔ (البتہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا معاملہ مختلف تھا، ان پر آئین شکنی کا مقدمہ بنا تھا اور عدالت نے سزا بھی سنائی تھی جس پر عملدرآمد نہین ہوا تھا۔ عمر بھر کے لیے کوئی فوجداری کارروائی نہیں ہوسکےگی۔)

گورنر کے لئے استثنیٰ

تمام صوبوں کے گورنر وں پر ان کےعہدہ پر کام کرنے کے عرصہ کے دوران کوئی فوجداری کارروائی نہیں ہوگی۔

مسلح افواج کےنظام کےمتعلق ترامیم؛

آئین میں مجوزہ ترامیم کے اس زیر غور مجموعہ میں پاکستان کی مسلح افواج میں کمانڈ کے تصور کو سموتھ کرنے اور  غیر معمولی فوجیوں کو قوم کی جانب سے خاص اعزاز سے نوازنے کی غرض سے کچھ ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

 چیف آف آرمی سٹاف/ چیف آف ڈیفینس فورسز کا تقرر
آئین میں مجوزہ ترامیم کے اس مجموعہ میں جسے 27 ویں آئینی ترمیم کا معروف نام دیا گیا ہے یہ وضاحت بھی شامل ہے کہ آرمی چیف کاتقرر وزیراعظم کی ایدوائس سے صدر مملکت کریں گے اور  پاکستان نیوی اور پاکستان ائیرفورس کے چیف کاتقرر صدرِ مملکت چیف آف آرمی سٹاف کی ایڈوائس سے کریں گے۔

جوائنت چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چئیرمین کے سیریمونئیل عہدہ کا خاتمہ

 جوائنت چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چئیرمین کے سیریمونئیل عہدہ کا خاتمہ کر کے 27 ویں آئینی ترمیم میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ متعارف کرادیا گیا ہے اور آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔

کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کا تقرر  

نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ  کے کمانڈر کا تقرر  وزیراعظم  کریں گے اور یہ تقرر کرنے کے لئے ٹیکنیکل مشورہ چیف آف آرمی سٹاف دیں گے۔

اعلیٰ ترین رینک ملنے پر غیرمعمولی فوجی تاحیات یونیفارم میں رہیں گے
  تین مسلح افواج کے اعلی ترین رینک حاصل کرنے والے غیر معمولی فوجی مرتے دم تک یونیفارم میں رہیں گے اور انہیں اعلیٰ ترین رینک کے ساتھ جڑی عزت اور مراعات مرتے دم تک حاصل رہیں گی۔

فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ  تین مسلح افواج کے تین اعلیٰ ترین رینک ہیں۔

ان کی ملازمت کی مدت پوری ہونے  پر  وفاقی حکومت  انہیں  ریاست کے مفاد  میں کوئی ذمہ داری  سونپ سکتی ہے۔

   صدرِ مملکت کی طرح تین مسلح افواج کے اعلیٰ ترین رینک حاصل کرنے والے غیر معمولی فوجیوں کو بھی فوجداری مقدمہ سے استثنا حاصل رہے گا۔

فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ  کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان سے کوئی سنگین غلطیاں ہو جائیں جن کے سبب ان سے رینک واپس لینا  ہمارےقومی وقار کے تحفظ کے لئے لازم ہو جائے تو ایسا پارلیمنٹ میں مواخذہ کے ذریعہ کیا جا سکے گا۔

Asaad Naqvi.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔

کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔

متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔

کراچی: ڈیفنس میں غیرملکی خاتون سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔

خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔

عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن