سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی،اپوزیشن کا واک آئوٹ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی۔سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیمی بل کی 56 شقوں اور 3 شیڈول کی منظوری دی، سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں 64 ارکان نے ووٹ دیا۔
پی پی 25، ن لیگ 20 اور 6 آزاد سینیٹرز نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، ایم کیو ایم 3، اے این پی 3، باپ 4، ق لیگ کے ایک سینیٹر نے حق میں ووٹ دیا۔
پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان نے ترامیم کے حق میں ووٹ دیا، پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل، ایم ڈبلیو ایم اور جے یو آئی ف نے ترامیم کی مخالفت کی۔
نیشنل پارٹی کے واحد سینیٹر جان محمد بلیدی اجلاس کی کارروائی سے غیر حاضر رہے، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے حق رائے دہی میں حصہ نہیں لیا، لیگی سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہ ہوسکے۔
قبل ازیں 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کا عمل شروع ہونے پر ایوان میں شور شرابہ شروع ہو گیا، اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، سینیٹر روبینہ ناز کے اصرار کے باوجود پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔
وزیر قانون کا سینیٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تعاون پر تمام سینیٹرز کے مشکور ہیں، میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام بنیادی نکتہ تھا، مشترکہ کمیٹی اجلاس میں تمام جماعتوں نے اپنی تجاویز دیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس ترمیم کی تیاری میں کاوشیں کیں، ہم سیاسی جماعتوں کے شُکر گزار ہیں، بعض شقوں میں مشاورت کے بعد اضافہ کیا گیا ہے، یہ متوازی نہیں آئینی عدالت ہے۔
پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے آئینی ترمیم کی حمایت کی، جے یو آئی ف کے سینیٹر احمد خان بھی آئینی ترمیم کی حمایت میں کھڑے ہوئے، حکمران اتحاد کے علاوہ جے یو آئی ف اور پی ٹی آئی کے ایک ایک سینیٹر نے حمایت کی۔
سینیٹر عرفان صدیقی اور جان محمد بلیدی ایوان کی کارروائی کا حصہ نہیں بنے، سینیٹر ہمایوں مہمند نے سینیٹ میں اراکین قومی اسمبلی کی موجودگی پر اعتراض کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ویں ا ئینی ترمیم پی ٹی ا ئی جے یو ا ئی ترمیم کی ووٹ دیا
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔