دو تہائی اکثریت موجود، عطا تارڑ: 18ویں ترمیم ختم نہیں کر رہے: رانا ثناء
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے نجی ٹی ی سے گفتگو میں کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کیلئے حکومت کے پاس دوتہائی اکثریت موجود ہے۔ امید ہے 27 ویں ترمیم جلد دونوں ایوانوں سے منظور ہو جائے گی۔ ایمل ولی خان 27 ویں ترمیم کیلئے وٹو کریں گے۔ آزاد سینیٹرز سے بھی بات چیت چل رہی ہے۔ آئینی ترمیم میں کچھ درستگی کی گئی ہے۔ فوجی ہیروز کو اعزازات دینے کا ماڈل پوری دنیا میں ہے۔ آئینی عدالت کا پورا طریقہ کار ہو گا اور ججز کی تعیناتی میرٹ پر ہو گی جو اہل ہو گا وہی آئینی عدالت کا جج بنے گا۔ سپریم کورٹ کو آئینی مقدمات کی بجائے عام عوام کے مقدمات بھی سننے چاہئیں۔ ادھر مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اﷲ نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں وسائل کی تقسیم سے متعلق معاملہ ہے۔ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ایسا کوئی معاملہ نہیں کہ 18 ویں ترمیم کو تبدیل یا ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس وقت دفاع اور قرض ادائیگی کے پیسے نکال دیں تو وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ دفاع پورے ملک اور تمام صوبوں کا ہے کوئی نہ کوئی طریقہ کار نکالنا ہو گا۔ تجاویز پر بحث چل رہی ہے کسی اتفاق رائے تک پہنچنا ہو گا۔ آئینی ترمیم کے دو اہم معاملات ہیں جن پر مکمل اتفاق ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ویں ترمیم
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔