اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے نجی ٹی ی سے گفتگو میں کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کیلئے حکومت کے پاس دوتہائی اکثریت موجود ہے۔ امید ہے 27 ویں ترمیم جلد دونوں ایوانوں سے منظور ہو جائے گی۔ ایمل ولی خان 27 ویں ترمیم کیلئے وٹو کریں گے۔ آزاد سینیٹرز سے بھی بات چیت چل رہی ہے۔ آئینی ترمیم میں کچھ درستگی کی گئی ہے۔ فوجی ہیروز کو اعزازات دینے کا ماڈل پوری دنیا میں ہے۔ آئینی عدالت کا پورا طریقہ کار ہو گا اور ججز کی تعیناتی میرٹ پر ہو گی جو اہل ہو گا وہی آئینی عدالت کا جج بنے گا۔ سپریم کورٹ کو آئینی مقدمات کی بجائے عام عوام کے مقدمات بھی سننے چاہئیں۔ ادھر مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اﷲ نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں وسائل کی تقسیم سے متعلق معاملہ ہے۔ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کو ختم کیا جا رہا ہے۔ ایسا کوئی معاملہ نہیں کہ 18 ویں ترمیم کو تبدیل یا ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اس وقت دفاع اور قرض ادائیگی کے پیسے نکال دیں تو وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ دفاع پورے ملک اور تمام صوبوں کا ہے کوئی نہ کوئی طریقہ کار نکالنا ہو گا۔ تجاویز پر بحث چل رہی ہے کسی اتفاق رائے تک پہنچنا  ہو گا۔ آئینی ترمیم کے دو اہم معاملات ہیں جن پر مکمل اتفاق ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ویں ترمیم

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے