27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیر یا منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا: رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ خان نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ کل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس کی منظوری کے بعد اسے سینیٹ اور بعدازاں قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے بتایا کہ ترمیمی مسودہ کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو بھی ارسال کیا جائے گا، جہاں اس پر دو روز تک بحث متوقع ہے، اگر سینیٹ پیر کے روز مسودہ منظور کر لیتا ہے تو قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے مزید تین دن درکار ہوں گے۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اتحادی جماعتوں سے مکمل مشاورت کی جا چکی ہے اور تمام فیصلے اتفاقِ رائے سے کیے جائیں گے۔ جس نکتے پر اتفاق ہو جائے گا، وہ 27ویں ترمیم کا حصہ بنے گا، اور جن امور پر اختلاف برقرار رہے گا، انہیں آئندہ مرحلے کے لیے مؤخر کر دیا جائے گا۔
رانا ثناءاللہ نے بتایا کہ آئینی عدالت کے قیام پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اتفاق رائے موجود ہے، جبکہ دوہری شہریت کے خاتمے کی تجویز بھی ترمیمی مسودے میں شامل ہے، اگرچہ پی ٹی آئی نے کمیٹیوں سے استعفے دے دیے ہیں، تاہم اسے ایوان میں ترمیم پیش کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لوکل گورنمنٹ نظام بھی 27ویں ترمیم کے ایجنڈے میں شامل ہے، اور اگر ترمیم منظور ہو جاتی ہے تو آئندہ چار برسوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات لازمی ہوں گے، اتحادی جماعتوں نے مجموعی طور پر مثبت ردعمل دیا ہے، جبکہ امید ہے کہ پیپلز پارٹی این ایف سی ایوارڈ سے متعلق تجاویز پر بھی مثبت مؤقف اختیار کرے گی۔
آئینی عدالت کے حوالے سے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے اور آٹھ ججوں پر مشتمل عدالتی ڈھانچے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ ان کے مطابق، سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کا اسٹیٹس برابر ہو گا، جبکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ہی آئینی عدالت کے چیف جج بھی ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ججز کی تقرری اور تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے پاس ہو گا، جو ایک علیحدہ خودمختار ادارہ ہوگا۔ رانا ثناءاللہ نے مزید بتایا کہ حکومت ایگزیکٹو مجسٹریٹ کا نظام کسی نہ کسی شکل میں بحال کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم ڈپٹی کمشنرز کو وہ وسیع اختیارات حاصل نہیں ہوں گے جو ماضی میں تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رانا ثناءاللہ نے آئینی عدالت کیا جائے گا بتایا کہ ہوں گے نے کہا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز