بابراعظم کی فارم واپس آنے سے ڈریسنگ روم کا اعتماد بحال ہورہا ہے، شاہین شاہ آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
قومی ون ڈے کرکٹ ٹیم شاہین شاہ آفریدی نے کہا ہے کہ بابراعظم کی حالیہ اننگز نے نہ صرف ان کی بیٹنگ فارم کو بحال کیا ہے بلکہ پوری ٹیم پر مثبت اثرات ڈالے ہیں۔ شاہین کے مطابق بابراعظم ایسے کھلاڑی نہیں جنہیں 2 یا 3 میچوں کی ناکامی کی بنیاد پر پرکھا جائے، وہ گزشتہ 4 سے 5 سال سے پاکستان کے لیے مستقل پرفارم کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جب آپ رنز بناتے ہیں تو جیت کا یقین ہوتا ہے، بابر اعظم اور سلمان علی آغا کی دلچسپ گفتگو
اپنی پریس کانفرنس میں شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی نمائندگی میرے لیے اعزاز ہے اور بطور سینئر کھلاڑی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ میدان میں 100 فیصد کارکردگی دکھائیں۔
انہوں نے کہا کہ 17 سال بعد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہوئی ہے، جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز ہمیشہ سخت ہوتی ہے، تاہم پاکستانی کھلاڑی پراعتماد ہیں اور حالیہ ٹی 20 سیریز میں ٹیم نے اچھا کھیل دکھایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی ون ڈے رینکنگ: رضوان و شاہین کی تنزلی، بابراعظم نمبر 2 پر
شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ کھلاڑیوں کا کام صرف کرکٹ کھیلنا ہے، فیصلے ادارے کرتے ہیں اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بولنگ میں مزید بہتری لانے پر فوکس کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ٹیم کو ون ڈے اور ٹی 20 دونوں میں مضبوط کریں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے ٹورنامنٹ میں شدید گرمی نے بولرز کو مشکل میں ڈالا، مگر اب موسم بہتر ہورہا ہے، البتہ شام کے وقت گیند گیلی ہونے سے مشکلات رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان کی چھٹی، فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی قومی ون ڈے ٹیم کے کپتان مقرر
بابر اعظم کی واپسی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کپتان نے کہا کہ جب سینیئر کھلاڑی پرفارم کرتے ہیں تو پورا اسکواڈ مضبوط ہوتا ہے، اور بابراعظم نے پچھلے میچ میں دکھایا کہ وہ میچ فنش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کپتان ہوں یا نہ ہوں، ہمیشہ پاکستان کے لیے بہترین کھیل پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بابر اعظم پاکستان جنوبی افریقہ شاہین شاہ آفریدی کپتان محمد رضوان ون ڈے سیریز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان جنوبی افریقہ شاہین شاہ ا فریدی کپتان محمد رضوان ون ڈے سیریز شاہین شاہ ا فریدی نے کہا کہ کرتے ہیں یہ بھی
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ