کنسرٹ تو دور اسرائیل اور نیتن یاہو کے قریب سے بھی نہیں گزرنا چاہتا؛ برطانوی گلوکار
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری اور ظلم و جبر کی خونی داستانیں رقم کی ہے جس کی مذمت کا سلسلہ عالم گیر سطح پر جاری ہے اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔
برطانوی بینڈ ریڈیوہیڈ کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار تھام یورک نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے اسرائیل میں پرفارم کرنے سے انکار کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گلوکار تھام یورک نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل یا نیتن یاہو حکومت کے قریب کہیں بھی پرفارم نہیں کریں گے۔
تھام یورک نے یہ بات دی سنڈے ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جہاں ان کے ساتھ بینڈ کے بیس گٹارسٹ جانی گرین ووڈ بھی موجود تھے۔
برطانوی بینڈ کے گلوکار تھام یورک کا کہنا تھا کہ میں بالکل بھی اسرائیل میں پرفارم نہیں کروں گا۔ میں نیتن یاہو حکومت کے قریب بھی نہیں جانا چاہتا۔
یہ انٹرویو اس وقت سامنے آیا ہے جب ریڈیوہیڈ سات سال بعد اگلے ماہ سے اپنا نیا ورلڈ ٹور شروع کرنے جا رہا ہے۔
2017 میں ریڈیوہیڈ نے تل ابیب میں کنسرٹ کیا تھا جس پر انہیں فلسطین نواز کارکنوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تھام یورک نے 2017 کے اس کنسرٹ کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک بااثر شخص میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ کے یہاں پرفارم کرنے سے بہت خوشی ہوئی۔ یہ سن کر میں ہکا بکا رہ گیا۔
انھوں نے اُس منظر کو یاد کرتے ہوئے مزید بتایا کہ مجھے لگا ہمارا شو کسی سیاسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے، اور یہ میرے لیے خوفناک لمحہ تھا۔
بینڈ کے ایک اور رکن ایڈ او برائن نے کہا کہ مجھے بھی 2017 میں اسرائیل میں پرفارم کرنے پر افسوس ہوا تھا۔ ہمیں اس وقت رام اللہ میں بھی پرفارم کرنا چاہیے تھا۔
واضح ہے کہ کئی کھیلوں کے مقابلوں میں بھی اسرائیل کو شرکت سے روکا گیا اور صیہونی ریاست کے کھلاڑیوں پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل تھام یورک
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔