ڈاکٹر وردہ قتل کیس: ملزمہ کے 16 جعلی اکاؤنٹس سامنے پر آگئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251214-08-7
ایبٹ آباد (مانیٹر نگ ڈ یسک ) ایبٹ آباد میں لیڈی ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں پولیس کی تفتیشی ٹیم کی جانب سے تحقیقات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق مرکزی ملزمہ ردا کی جانب سے مختلف ناموں سے بنائے گئے 16 جعلی اکاؤنٹس منظر عام پر آ گئے ہیں۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ ردا نے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے 73 تولہ سونا جمع کروایا اور 2 کروڑ روپے سے زاید کا قرض حاصل کیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جن افراد کے ناموں پر یہ زیورات جمع کروائے گئے، ان میں 8 اکاؤنٹس مردوں جبکہ 7 اکاؤنٹس خواتین کے نام پر ہیں۔ مزید یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مرکزی ملزمہ ردا نے اپنے نام پر زیورات کے عوض صرف 12 لاکھ روپے سے زاید کا قرض حاصل کر رکھا ہے۔ پولیس کی جانب سے معاملے کے تمام پہلوؤں پر باریک بینی سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اکاو نٹس
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔