پشاور پولیس نے مسافروں کو جعلی بائیک رائیڈرز سے بچانے کے لیے بڑا فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے پشاور پولیس نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے شہر میں سواریوں کو لے جانے والے تمام بائیک رائیڈرز کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ‘SafeRide’ (سیف رائیڈ) کے نام سے ایک خصوصی موبائل ایپ بھی متعارف کر دی گئی ہے۔ یہ اعلان سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے کیا۔
سی سی پی او کے مطابق بائیک رائیڈرز اب اپنے قریبی تھانے میں جا کر یا سیف رائیڈ ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کروا سکیں گے۔ رجسٹرڈ رائیڈر کو کیو آر کوڈ والا خصوصی اسٹیکر جاری کیا جائے گا، جس کے ذریعے اس کی شناخت اور معلومات فوری طور پر معلوم کی جا سکیں گی۔
ڈاکٹر میاں سعید نے بتایا کہ یہ اقدام شہریوں کے اعتماد اور سیکیورٹی کو بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، کیونکہ متعدد وارداتوں میں جعلی بائیک رائیڈرز شہریوں کو لوٹنے میں ملوث رہے ہیں، جبکہ کئی بار اصل بائیک رائیڈرز بھی گن پوائنٹ پر لُوٹے گئے۔
پولیس اب تک اس نوعیت کے 20 ملزمان کو گرفتار کر چکی ہے، تاہم سٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے یہ پہلا بڑا اور منظم قدم ہے۔
سی سی پی او نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو محفوظ اور پراعتماد سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹریٹ کرائمز بائیک رائیڈرز پشاور پولیس سیف رائیڈ ایپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹریٹ کرائمز بائیک رائیڈرز پشاور پولیس بائیک رائیڈرز کے لیے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔