پی ٹی آئی نے اپنی اصلاح کا فیصلہ کرلیا، عمران خان سے ملاقاتیں روکنا مسئلے کا حل نہیں، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پارٹی خود بہت سی چیزوں میں اپنی اصلاح کرنا چاہتی ہے، عمران خان سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملاقات کرنا ہمارا قانونی حق ہے اور کئی عدالتی احکامات بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں، مگر آج بھی ہمیں جیل جانے سے روکا گیا۔
مزید پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کا وقت ختم، کسی کو اجازت نہ ملی، بہنوں کا جیل کے قریب دھرنا جاری
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ کشیدہ حالات ملک کے لیے خطرناک ہیں اور ملک مزید کسی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ سیاست میں اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر یہ دشمنی میں تبدیل نہیں ہونے چاہییں۔ ایک دوسرے کو نامناسب الفاظ سے نہیں پکارنا چاہیے۔ ہم خود بھی کئی معاملات میں اپنی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتے رہے ہیں، اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بات چیت کے عمل کے لیے محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس کو مکمل اختیار دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ کچھ دن پہلے ایک موقع آیا تھا کہ ممکنہ طور پر ڈائیلاگ ہوسکتا تھا۔ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جانا چاہیے اور حالات کو کشیدگی کی طرف نہیں جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی: بانی پی ٹی آئی عمران خان پر پابندی لگانے کی قرارداد منظور
انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ اور دیگر اداروں کو اپنے اپنے طریقے سے کام کرنا چاہیے۔ ہم نے سسٹم کے اندر رہ کر تبدیلی کی کوشش کی ہے، کیونکہ جذبات کی وجہ سے لوگ مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی، اور ہم نے فوج کی کوششوں کو سراہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اصلاح بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ملاقاتیں وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اصلاح بیرسٹر گوہر چیئرمین پی ٹی ا ئی عمران خان ملاقاتیں وی نیوز بیرسٹر گوہر انہوں نے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔