ہم نے کبھی مذاکرات رد نہیں کیے، غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ کچھ عناصر اداروں اور پی ٹی آئی کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ غلط تھا اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا، کچھ لوگ جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر چاہتے ہیں کہ اداروں اور پی ٹی آئی کے درمیان غلط فہمیاں برقرار رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تحریک انصاف چاہتی ہے کہ حالات بہتر ہوں اور معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اداروں کے کردار کو سراہتے ہیں اور ہمیشہ ان کی تائید کی ہے۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ مضبوط فوج پاکستان کی سلامتی اور بقا کی ضامن ہے اور اس حوالے سے پارٹی کا مؤقف کبھی متنازع نہیں رہا۔
اس سے قبل بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ ملک انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا اور جب اس طرح کے بیانات دیے جائیں کہ ’’ایسی کی تیسی‘‘ ہو جائے گی تو پھر معاملات ایک فریق کے قابو میں نہیں رہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض بیانات پر سخت مایوسی ہوئی، جمہوریت کے دشمن تصادم چاہتے ہیں جبکہ سیاست میں مائنس کرنے کے بجائے مل جل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل بیرسٹر گوہر انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔