ROME, ITALY:

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ملک آئندہ 60 سے 90 دن کے اندر عام انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ مغربی اتحادی انتخابی عمل کے لیے مکمل سکیورٹی کی ضمانت فراہم کریں۔

اٹلی کے دورے کے بعد اپنے طیارے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ وہ انتخابات سے متعلق کسی بھی تاخیر کے حامی نہیں تاہم سکیورٹی کی صورتحال بنیادی رکاوٹ ہے۔

صدر زیلنسکی نے کہا کہ میں انتخابات کے لیے تیار ہوں اور میں کھلے عام امریکہ اور یورپی اتحادیوں سے درخواست کر رہا ہوں کہ وہ انتخابی عمل کی سکیورٹی یقینی بنانے میں مدد کریں۔

ان کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یوکرین کی قیادت جنگ کو انتخابات نہ کرانے کا بہانہ بنا رہی ہے اور اب ملک انتخابات ہونے چاہیے۔

زیلنسکی نے اس تاثر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار سے چمٹے رہنے کے خواہاں نہیں بلکہ ملک کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل میزائل حملوں کے دوران فوجی اور شہری کس طرح ووٹ ڈال سکتے ہیں؟

صدر نے بتایا کہ انہوں نے یوکرینی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ مارشل لا کی حالت میں انتخابات کرانے کے لیے ضروری قانون سازی تیار کی جائے۔

صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مزید کہا کہ اپنے شراکت داروں کا احترام کرتے ہوئے کہوں گا کہ میں انتخابات کے لیے تیار ہوں، مگر یہ فیصلہ یوکرین کے عوام کا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: زیلنسکی نے کہا کہ نے کہا کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا