ابھرتے ہوئے ہمہ جہت اداکار منیب بٹ کے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ پر کی گئی گفتگو نے مداحوں کو ان کے ایک نئے اور دلنشین پہلو سے روشناس کرا دیا۔

اداکار منیب بٹ نے بتایا کہ ان کا پورا خاندان مذہبی ہے، بالخصوص ان کی والدہ پنج وقتہ نمازی اور تہجد گزار بھی ہیں۔

منیب بٹ نے کہا کہ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے تو مجھے ایسی ایمان بھری گود ملی کہ جس نے میری روح تک کو سیراب کر رکھا ہے۔

منیب بٹ نے کہا کہ میں اور میرا خاندان کبھی اپنے مذہبی رجحانات اور نیک اعمال کی تشہیر نہیں کرتے کیوں کہ اللہ تو سب دیکھ رہا ہے اور نیت تک جانتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر میں عبادت یا کسی نیک کام کی ویڈیو اپ لوڈ کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایک بھی شخص اسے دیکھ کر اچھے کام کی جانب مائل ہوگیا تو میرے لیے صدقہ جاریہ بن جائے گا۔

منیب بٹ نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں اللہ کہاں ہے؟ میں کہتا ہوں اللہ کی مدد تو مشکل آنے سے پہلے پہنچ جاتی ہے۔

مداحوں نے اپنے پسندیدہ اداکار کے اس کھلے اور صاف گو مؤقف کو بے حد سراہا اور ان کے نیک کاموں کی قبولیت کی دعا کی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ،حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری معاشی ترقی کی ضمانت ہے، وزیراعظم
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ