عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 1 ارب 29کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی۔پیر کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف ایگزیکٹوبورڈ کا پاکستان سے متعلق اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے لیے 1 ارب 29 کروڑ ڈالر کی قسط کی منظوری دی گئی۔ آئی ایم ایف مشن پہلے ہی اس قسط کے اجرا کی منظوری دے چکا تھا۔ 1 ارب 29 کروڑ ڈالر کی قسط میں سے 20 کروڑ ڈالر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے منصوبوں کے لیے ملیں گے۔اس کے علاوہ آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ نے دوسرے اقتصادی جائزے کی بھی منظوری دے دی۔ذرائع کے مطابق 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف پروگرام کی مد میں 1 ارب ڈالر سے زائد ملیں گے، 1.

3 ارب ڈالر کے آر ایس ایف کے تحت 20 کروڑ ڈالر سے زائد کی پہلی قسط شامل ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں قرض پروگرامز کی مجموعی جاری رقم 3.3 ارب ڈالر ہو جائے گی۔ذرائع کے مطابق پاکستان کو ای ایف ایف پروگرام کے تحت 2 اقساط پہلے ہی مل چکی ہیں۔آئی ایم ایف نے جاری قرض پروگرام پر عمل درآمد کو مضبوط قرا دیا۔ حکومت نے بھی معاشی اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔واضح رہے کہ 1 ارب 29کروڑ ڈالر ملنے سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید اضافہ ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کروڑ ڈالر ارب ڈالر ڈالر کی کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری