پاکستان کیلئے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس کل ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس کل ہوگا۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 14 اکتوبر کو اسٹاف لیول معاہدہ ہوا تھا۔پاکستان ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر قرض کی قسط کے لیے تمام شرائط پوری کر چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف قرض پروگرام کے تحت 1 ارب ڈالر ملیں گے، کلائمیٹ فنانسنگ کی مد میں پاکستان کو 20 کروڑ ڈالر جاری کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط تھی کہ بورڈ اجلاس سے پہلے کرپشن اینڈ گورننس ڈایئگناسٹک رپورٹ جاری کرے، پاکستان نے کرپشن اینڈ گورننس ڈایئگناسٹک رپورٹ جاری کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔