آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) نے پاکستان کیلیے 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی۔ایکسپریس نیوز کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس واشنگٹن ہوا جس میں پاکستان کے لیے تقریباً 1.3 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دی گئی۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کو سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (آی ایف ایف) پروگرام کے تحت قرض کی تیسری قسط کی مد میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم ملے گی۔
ذرائع کے مطابق 1.
وزیر داخلہ محسن نقوی کی لندن میں برطانوی حکام سے ملاقات، چند پاکستانیوں کی حوالگی سے متعلق گفتگو
اس کے علاوہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ نے دوسرے اقتصادی جائزے کی بھی منظوری دے دی اور آئی ایم ایف نےجاری قرض پروگرام پرعملدرآمد کو مضبوط قراردیدیا ہے جبکہ حکومت نے معاشی اصلاحات پرعمل درآمد جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔پاکستان کیلئے ای ایف ایف موجودہ قرض پروگرام کی تیسری قسط منظور ہوئی، اس سے قبل پاکستان نے 37 ماہ کا موجودہ قرض پروگرام ستمبر 2024 میں حاصل کیا تھا۔ای ایف ایف پروگرام کی ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط ستمبر 2024 میں ملی جبکہ دوسری ایک ارب ڈالر کی قسط مئی 2025 میں ملی تھی۔
کراچی کی ابھرتی ہوئی فٹسال کھلاڑی، 16 سالہ ایمن علی ٹیمو کی مدد سے اپنے خواب کی تعبیر کے قریب
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف قرض پروگرام ارب ڈالر کی کی منظوری ایف ایف
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔