27 اور28 ویں ترمیم کسی صورت قبول نہیں ، علی حسن زرداری
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیرپور (جسارت نیوز ) صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروس اور جیل خانہ جات علی حسن زرداری نے کہا کہ 27 ترمیم آئے یا 28 ترمیم آئے سندھ دھرتی ہماری ماں ہے اسکو تقسیم کرنے کی کسی مائی کے لال میں جرات نہیں سندھ کا کبھی بھی سودا نہیں کرینگے صدر آصف زرداری ایک منتخب صدر ہے انکو ہٹانے کی خبریں بے بنیاد ہیں وہ اپنے مدت پوری کرینگے ان خیالات کا اظہار انھوں نے سابق ایم این اے نواب علی وسان اور فدا وسان کی رہائشگاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر پریس کلب خیرپور کے سرپرست اعلی خان محمد خان کی جانب سے صوبائی وزیر کو شکایات دی کہ سیشن کورٹ کی کمپائونڈ وال کرائی تھی ، بلڈنگ پبلک ہیلتھ ، الیکٹریکل اور روڈ کا کام کرایا تھا مگر 12 سال گزر جانے کے باوجود 2 کروڑ ابھی تک نہیں ملے ہیں جسکا کیس عدالت میں زیر سماعت ہیں مگر میرا کیا ہوا کام پر پلبک ہیلتھ والے کام کررہے ہیں جس پر صوبائی وزیر نے صوبائی سیکرٹری محمد نواز سوہو کو ہدایات دی کہ اس کی صاف شفاف انکوائری کرائی جائے اس موقع پر صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ میں چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلی سندھ کی ہدایات پر خیرپور کے مسائل سننے کے لئے آیا ہوں سندھ میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا جارہا ہے جو ترقیاتی کام رہ گئے ہیں ویسے جلد مکمل کیا جائیگا سندھ کے مختلف جیلوں کا دورہ کررہا ہے قیدیوں کو ہر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہدایات جاری کی ہے میں پاکستان پیپلزپارٹی کا کارکن ہوں پارٹی نے اعتماد کرکے سیٹ دی میرا خیرپور سے الیکشن لڑنے کا ادارہ نہیں ہے اس موقع پر مرکزی رہنما سید کاظم شاہ لکیاری بھی موجود تھے۔
کوٹڈیجی کے رہائشیوں کا قبضہ مافیا کیخلاف احتجاج
خیرپور ( جسارت نیوز) کوٹڈیجی کے گوٹھ غلام حسین کھورکھانی کے رہائشی حاجی سہراب کھورکھانی ، علی مردان رند نے پریس کلب خیرپور میں مشترکہ پریس کلب خیرپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چار سال قبل میں نے اعجاز راجپراور فیاض راجپر سے 34 ایکڑ زرعی زمین تقریبا ایک کروڑ 75 لاکھ میں خریدی تھی جسکے کاغذات ہمارے پاس موجود ہیں مگر سزا یافتہ علی دین بڑدی ، فیاض بڑدی ، ریاض بڑدی ، مشتاق بڑدی ، دیدار بڑدی ، جام بڑدی نے میری 34 ایکڑ زرعی زمین پر قبضہ کرلیا ہے اور مجھے قتل کرنے سمیت دیگر جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھکمیاں دے رہا ہے اس سلسلے میں کوٹڈیجی پولیس کے اہلکار قبضہ خوروں کی سرپرستی کررہے ہیں انھوں نے ڈی آئی جی سکھر ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا ہے کہ میری زمین قبضہ خوروں سے واپس دلائی جائے اور انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔