Jasarat News:
2026-06-03@07:36:19 GMT

نائیجیریا میں اغوا کیے گئے 100بچے رہا کرالیے گئے

اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251209-06-10

ابوجا (انٹرنیشنل ڈیسک) نائیجیریا کی حکومت نے ایک ماہ قبل نائیجر اسٹیٹ سے اغوا کیے گئے 100 اسکول بچوں کی بحفاظت بازیابی یقینی بنا لی۔ خبررساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ ملک کی حالیہ تاریخ کے بدترین اجتماعی اغواکی وارداتوں میں شمار ہوتا ہے۔ 21 نومبر کو مسلح افراد نے سینٹ میری کیتھولک بورڈنگ اسکول، پاپیری پر دھاوا بول کر 303 بچوں اور 12 عملے کو اغوا کر لیا تھا۔ فائرنگ اور بھگدڑ کے دوران 50 بچے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم باقی بچوں اور عملے کے بارے میں کئی ہفتوں تک کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔ مقامی نشریاتی ادارے نے بچوں کی رہائی کی تصدیق تو کی تاہم اس کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کیں۔ نائیجر اسٹیٹ حکام اور کرسچین ایسوسی ایشن آف نائیجیریا نے کہا ہے کہ انہیں وفاقی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا گیا۔ کرسچین تنظیم کے ترجمان ڈینیئل اٹوری کا کہنا تھا کہ ہمیں ابھی تک حکومت کی جانب سے باضابطہ اطلاع نہیں ملی، تاہم امید ہے خبر درست ہوگی۔ ہم باقی بچوں کی جلد بازیابی کے منتظر ہیں۔ دوسری جانب نائیجیریا کے صدر بولا احمد تینوبو نے مغربی افریقی ملک بنین کی درخواست پر بغاوت کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی میں مدد فراہم کرنے کے لیے فوج تعینات کر دی۔ نائیجیرین صدر کے دفتر نے جاری بیان میں بتایا کہ صدر نے بنین کی درخواست پر نائیجیرین مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ بینن کو بغاوت کی کوشش کرنے والے عناصر کو ختم کرنے میں مدد فراہم کریں۔ بیان میں بتایا گیا کہ بینن نے نائیجیریا سے فوری فضائی مدد، بینن کی فضائی حدود میں نائیجیرین ائئر فورس کے طیاروں کی تعیناتی اور زمینی افواج بھیجنے کی درخواست کی تھی تاکہ بینن کے آئینی نظم و نسق اور اداروں کا تحفظ کیا جا سکے اور عوام کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ نائیجیریا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف اولوفیمی الوییدی نے کہا کہ درخواستوں پر عمل کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کچھ گھنٹوں کے بعد نائیجیرین حکومت کے دستوں کی مدد سے کنٹرول سنبھال لیا اور قومی ٹی وی سے بغاوت کرنے والوں کو باہر نکال دیا۔ مغربی افریقی ممالک کی علاقائی سیاست اور اکنامک یونین اکنامک کمیونٹی آف ویسٹرن افریقن سٹیٹس (ای سی او ڈبلیو اے ایس ) نے کہا کہ اس نے بنین میں ای سی او ڈبلیو اے ایس کی سٹینڈ بائی فورس تعینات کرنے کا حکم دیا ہے، جس میں نائیجیریا، سیرالیون، آئیوری کوسٹ اور گھانا کے دستے شامل ہیں تاکہ حکومت اور فوج کو ملک کے آئینی نظام اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں مدد دی جا سکے۔

راصب خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت