اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی  جریدے بلوم برگ کے مطابق ترکیہ نے اپنے جنگی ڈرونز  پاکستان میں بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا۔امریکی خبر رساں ادارے نے ترک حکام کے حوالے سے بتایا ترکیہ اس منصوبے کے تحت اپنے اسٹیلتھ اور طویل پرواز کی صلاحیت کے حامل جدید ڈرونز پاکستان میں اسمبل کرے گا۔ جس سے پاکستان کو اعلیٰ درجے کی دفاعی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی جبکہ ترکیہ کو اپنے ہتھیاروں کی عالمی منڈی میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت اسٹیلتھ اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرون کے پرزے پاکستان برآمد ہوں گے جہاں انہیں جوڑا جائے گا۔بلوم برگ کا کہناہے کہ ترکیے مشترکہ پیداواری معاہدے کے تحت پاکستانی بحریہ کے لیے جنگی جہازوں کی تیاری پر بھی کام کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ترکیے نے رواں سال کئی ممالک سے دفاعی معاہدوں کا اعلان کیا ہے، جن میں انڈونیشیا کی جانب سے لڑاکا طیاروں کا  آرڈر  بھی شامل ہے، اس کے علاوہ ترکیے کے سعودی عرب  اور  شام کو مزید اسلحہ فراہم کرنےکے منصوبے بھی موجود ہیں۔

مائنس ون یعنی الطاف حسین فارمولہ، نہیں تو پھر پوری پی ٹی آئی مائنس، فیصل واوڈا

واضح رہے کہ دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر مضبوط کرنا صدر رجب طیب ایردوان کی پالیسی کا بنیادی حصہ ہے اور اسی حکمتِ عملی کے تحت ترکیہ نے رواں سال انڈونیشیا کو لڑاکا طیاروں کا آرڈر دیا جبکہ سعودی عرب اور شام کو مزید اسلحہ فروخت کرنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کے تحت

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان