ترکیہ کا بڑا قدم: پاکستان میں جنگی ڈرون فیکٹری کا منصوبہ، ففتھ جنریشن فائٹر پروگرام میں شمولیت کی پیشکش — بلوم برگ
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
امریکی جریدے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا خواہش مند ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترکیہ نہ صرف پاکستان میں جنگی ڈرون تیار کرنے کی فیکٹری قائم کرنا چاہتا ہے بلکہ اسلام آباد کو اپنے ففتھ جنریشن لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں شمولیت کی بھی دعوت دے رہا ہے۔
بلوم برگ کے مطابق یہ منصوبہ ترکیہ کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ عالمی منڈیوں میں اپنی دفاعی صنعت کو مضبوط بنیاد دینا چاہتا ہے۔ معاملے سے باخبر ترک حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اکتوبر کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اس منصوبے پر ہونے والی بات چیت میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔
منصوبے کے تحت جدید ترین اسٹیلتھ صلاحیت کے حامل اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے ڈرونز کے پرزے ترکیہ سے پاکستان بھیجے جائیں گے، جہاں مقامی سطح پر ان کی اسمبلنگ کی جائے گی۔ اس اقدام سے پاکستان کے دفاعی شعبے میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے نئے دروازے کھلنے کا امکان ہے۔
بلوم برگ نے یہ بھی یاد دلایا کہ ترکیہ پہلے ہی پاکستان کے ساتھ مشترکہ پیداوار کے تحت بحریہ کے لیے جنگی جہاز بنا رہا ہے، جبکہ پاکستان کے درجنوں ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن بھی ترک کمپنیوں نے کی ہے۔ اب ترکیہ چاہتا ہے کہ پاکستان اس کے ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ پروگرام — جسے ترکیہ اپنے مستقبل کا اہم ترین عسکری منصوبہ سمجھتا ہے — کا حصہ بنے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال ترکیہ نے انڈونیشیا کے ساتھ لڑاکا طیاروں کی فروخت سمیت متعدد دفاعی معاہدوں کا اعلان کیا ہے، اور اس کے سعودی عرب اور شام کو مزید اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے بھی زیرِ غور ہیں۔
ترک دفاعی صنعت کے حکومتی ادارے SSB کے سربراہ ہالوک گورگن کے مطابق ترکیہ کی دفاعی برآمدات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال کے پہلے 11 مہینوں میں برآمدات 30 فیصد بڑھ کر 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کے بلوم برگ کے مطابق
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔