حماس کو غیر مسلح کرنے کی امریکی اور اسرائیلی شرط؛ ترکیہ کا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے کہا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کا عمل حقیقت پسندانہ اور مرحلہ وار انداز میں حل ہونا چاہیے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے دوحہ فورم 2025 کے دوران میڈیا سے گفتگو میں کیا۔
ترک وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کو ترجیحات کی فہرست میں سب سے آخر میں رکھا جائے۔
انھوں نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے سے پہلے غزہ میں انتظامی کنٹرول کی منتقلی، نئی پولیس فورس کا قیام اور انسانی امداد کی آزادانہ فراہمی ناگزیر ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے سے قبل غزہ کے انتظامی امور بالخصوص سیکیورٹی معاملات کو مربوط اور منظم کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ پہلے غزہ میں پولیسنگ کے نظام کو سنبھالنا ہوگا پھر انسانی امداد کو مکمل آزادی سے داخل ہونے دینا ہوگا۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ جب معمول کی زندگی بحال ہوجائے اور لوگوں میں امید پیدا ہو تب ہم حماس کے غیر مسلح ہونے کے مسئلے پر بات کر سکتے ہیں۔
انھوں نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل میری بتائی ہوئی اس ترتیب سے خوش نہیں ہوگا لیکن میری دانست میں یہ بہت سے مسائل کا حل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حماس کو غیر مسلح کرنے کہ حماس کو غیر مسلح انھوں نے نے کہا
پڑھیں:
پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔ مستقل مندوب عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ لبنان پر اسرائیل کے حملے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل حملے خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں۔ پائیدار امن صرف بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان لبنان کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان تناؤ میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔