حماس کو پیسے سے ’خریدنے‘ کی حکومتی پالیسی تباہ کن ثابت ہوئی؛ سربراہ اسرائیلی فوج
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کو روکنے کی ناکامی کا ملبہ حکومت اور فوج نے ایک دوسرے پر ڈال دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع اور آرمی چیف کے درمیان لفظی گولہ باری نے حکومت اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور تلخی کو بے نقاب کردیا۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے تحقیقاتی رپورٹ پر کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کو روکنے کی ناکامی صرف فوج پر عائد نہیں ہوتی بلکہ یہ حکومتی پالیسیوں کا شاخسانہ بھی تھا۔
انہوں نے آزاد اور غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فوج نے بطور ادارہ اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہیں مگر 7 اکتوبر کا واقعہ صرف فوج کی ناکامی نہیں تھا۔
اسرائیلی فوج کے چیف نے کہا کہ حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی میں قومی سطح پر کئی اداروں اور ملکی پالیسیوں کا بھی بڑا حصہ ہے۔ سب سے زیادہ حماس کو پیسے سے خریدنے کا تصور تباہ کن ثابت ہوا۔
اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ برسوں تک اسرائیلی حکومتوں خصوصاً وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں غزہ میں قطری رقوم بھیج کر حماس کو خاموش رکھنے کی پالیسی اختیار کی گئی۔
ایال زمیر نے اسے ایک ’’گھمبیر غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حکمتِ عملی نے حماس کو بڑے پیمانے پر عسکری تیاری اور مضبوطی کا موقع فراہم کیا جس کا مظاہرہ انھوں نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کرکے کیا۔
آرمی چیف ایال زمیر نے یہ بھی کہا کہ فوج نے حکام کو 2023 کے دوران متعدد مرتبہ خبردار کیا کہ اسرائیل کے اندرونی سیاسی انتشار، خصوصاً عدالتی اصلاحات پر پیدا ہونے والے بحران، سے دشمن یہ تاثر لے رہے ہیں کہ اسرائیل کمزور ہو رہا ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف نے تسلیم کیا کہ نہ تو سیاسی قیادت نے اور نہ ہی فوج نے ان انتباہات کے مطابق الرٹ لیول یا تعیناتیوں میں مناسب تبدیلیاں کیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ برسوں میں جاری فوجی کارروائیوں خصوصاً 2014 کی جنگ نے ہماری یہ غلط فہمی مضبوط کردی کہ حماس اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔
ایال زمیر نے کہا کہ جس کی وجہ سے نہ فیصلہ کن آپریشنل منصوبے تیار کیے گئے بلکہ بعد میں کچھ جاری منصوبے ختم بھی کر دیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ ان خیالات کا اظہار اسرائیلی آرمی چیف نے فوجی تحقیقاتی رپورٹ پر کیا جس کا خلاصہ مختلف افسران اور حکومتی حکام کو بھیجا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کی تحقیقاتی رپورٹ کا خلاصہ
7 اکتوبر 2023: حماس نے اسرائیل پر اچانک اور بڑے پیمانے کا حملہ کیا، جس میں جانی نقصان ہوا اور عسکری ناکامیاں سامنے آئیں۔
2023 سے قبل: اسرائیلی حکومتیں غزہ میں قطری فنڈنگ کی اجازت دیتی رہیں، اس امید پر کہ مالی سہولت کے بدلے سرحدی سکون برقرار رہے گا۔
2024–2025: حملے سے متعلق فوجی اور سیاسی سطح پر متعدد تحقیقات ہوئیں، مگر ریاستی کمیشن کے قیام سے حکومت گریز کرتی رہی۔
5 دسمبر 2025: آرمی چیف ایال زمیر نے دوبارہ زور دیا کہ 1973 کی یومِ کپور جنگ کی طرح ایک آزاد قومی کمیشن قائم کیا جائے تاکہ سیاسی، عسکری اور پالیسی سطح کی تمام ناکامیوں کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
دوسری جانب وزیر دفاع یسرائیل نے حماس کے حملے کو روکنے کی مکمل ذمہ داری فوج اور انٹیلی جنس پر عائد کرتے ہوئے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے سابق فوجی افسران کے بجائے اپنی وزارت کے چند سینئیر حکام سے از سرنو تفتیش کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
یہی اعلان ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان سنگین اختلافات کا باعث بنا ہے۔ اسرائیلی آرمی چیف اس سے قبل کئی بار وزیر دفاع کے احکامات کو ہوا میں اُڑا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی ا رمی چیف حملے کو روکنے اسرائیلی فوج ایال زمیر نے اسرائیل پر اکتوبر 2023 وزیر دفاع حماس کو کہا کہ
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم