والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کا روایتی کھیلوں کی سرگرمی ’کھیڈاں لاہور دیّاں‘ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے حکومتِ پنجاب کے روایتی کھیلوں کے فروغ اور احیاء کے وژن کے تحت تاریخی شالامار باغ میں بھرپور اور رنگا رنگ سرگرمی ’کھیڈاں لاہور دیّاں‘ کا انعقاد کیا۔
اس سرگرمی میں شاندار عوامی شرکت دیکھنے میں آئی، جہاں تقریباً 450 بچوں اور والدین نے روایتی پنجابی کھیلوں کی متنوع سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
اس پروگرام کا مقصد نوجوان نسل کو پنجاب کی ثقافتی و تفریحی روایات سے جوڑنا اور تاریخی مقامات کو کمیونٹی سرگرمیوں کے لیے پُرکشش جگہوں میں تبدیل کرنا ہے۔
اس سرگرمی میں مختلف روایتی کھیل بھی شامل تھے، جن میں لڈو، کیرم بورڈ، شطرنج، پٹھو گرم، بنتے، لٹو، بوریاں دوڑ، رَسہ کشی، بندر کلا، کلکّی اورکوکلا چھپاکی شامل تھے، جنہوں نے بچوں کو روایتی کھیل کھیلنے کی خوشی کو دوبارہ محسوس کرنے کا موقع فراہم کیا۔
اس موقع کو مزید خوشگوار بنانے کے لیے معروف بچوں کے ملبوسات کے برانڈ بچہ پارٹی کی جانب سے بچوں میں گفٹ ہیمپرز بھی تقسیم کیے گئے، جس سے سرگرمی کا جوش و خروش مزید بڑھ گیا۔
ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نجم الثاقب نے کہا کہ والڈ سٹی آ ف لاہور اتھارٹی، حکومتِ پنجاب کے روایتی کھیلوں کے احیاء کے وژن کو آگے بڑھانے اور نئی نسل کو اپنی ثقافتی جڑوں سے جوڑنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’کھیڈاں لاہور دیّاں‘ جیسی سرگرمیوں کے ذریعے ہم بامقصد تفریحی مواقع فراہم کرتے ہوئے پنجاب کے ثقافتی ورثے کا جشن منا رہے ہیں۔
نجم ثاقب کا کہنا تھا کہ ہم بچہ پارٹی کے تعاون کے مشکور ہیں جنہوں نے اس سرگرمی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: لاہور اتھارٹی والڈ سٹی
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔