’کنتارا‘ کی نقل کیوں اتاری؟ ’رنویرسنگھ‘ پر مذہبی عقائد کا مذاق اڑانے پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ کو گوا میں انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا 2024 (IFFI) میں ایک منظر کی نقل کرنے پر سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے۔
Ranveer’s reaction to the Kantara scene really felt unnecessary and disrespectful pic.twitter.com/yQeffCofZk
— Nandan (@nandan_333) November 29, 2025
انہوں نے فلم ’کنتارا‘ کے کردار چاؤندی کو ’خاتون بھوت‘ کہہ کر مزاحیہ انداز میں دکھایا، جس سے موقع پر موجود فلم کے ڈائریکٹر رشبھ سیٹھی بھی ہنس پڑے تھے۔
There’s a reason why today’s actors should be kept away from promotions .
— Matineeguy (@MKDJobsNew53) November 29, 2025
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے کہا کہ رنویر سنگھ کا یہ مظاہرہ مقدس رسموں اور ثقافت کے لیے غیر حساس تھا۔ بعض صارفین نے کہا کہ صرف تفریح کے لیے ایسے مذاق کرنا نامناسب ہے اور اس سے عورتوں اور مذہبی عقائد کی عزت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
Dear @RanveerOfficial you don’t know the difference between God and Ghost ….????????????
Chavundi is Goddess not ghost ..????
And you literally mocking on big stage..????#KantaraChapter1 #RanveerSingh pic.twitter.com/SXV3HZdUfq
— Agasthya ᵀᵒˣᶦᶜ (@sachi_1933) November 29, 2025
اب تک نہ رنویر سنگھ اور نہ ہی رشبھ سیٹھی نے اس تنقید پر کوئی جواب دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
kantara انٹرنیشنل فلم فیسٹیول آف انڈیا 2024 بالی ووڈ اداکار رنویر سنگھ رشبھ سیٹھی رنویر سنگھ کانتاراذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رشبھ سیٹھی رنویر سنگھ کانتارا رنویر سنگھ
پڑھیں:
وزیراعلی مراد علی شاہ کی سندھ اسمبلی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کی سخت مذمت
سندھ اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، دریائے سندھ پر پاکستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاقی حکومت کو بھیجی جائے تاکہ قومی سطح پر مضبوط مؤقف پیش کیا جاسکے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ بیان کو اشتعال انگیز، بے بنیاد اور خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے خلاف پیش کی گئی مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ اس قرارداد کو خود بھی پیش کرنا چاہتے تھے کیونکہ بھارتی وزیر دفاع نے ایسا تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاید صوبہ سندھ میں ہندو برادری عدم تحفظ کا شکار ہے، جو کہ گمراہ کن اور جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ہے، میں 1947ء یا انگریز دور کی بات نہیں کر رہا، 624ء میں بھی سندھ موجود تھا، جس میں ملتان اور مکران بھی شامل تھے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کا دارالخلافہ سیہون رہا ہے اور اس خطے کا وجود بہت قدیم ہے، اس وقت کئی موجودہ ممالک وجود میں بھی نہیں آئے تھے جب سندھ ایک پہچان کے ساتھ قائم تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انگریز دور میں سندھ کو سازش کے تحت بمبئی پریزیڈنسی میں شامل کیا گیا، تاہم 1936ء میں مسلمانوں اور ہندوؤں نے مل کر جدوجہد کر کے سندھ کو الگ حیثیت دلوائی۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ مسلم لیگ کے سندھ چیپٹر نے سب سے پہلے پاکستان بنانے کی تحریک کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں 1947ء میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ اور مودی حکومت کی بوکھلاہٹ حالیہ بھارتی ناکامیوں اور خطے میں سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
مراد علی شاہ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہوں نے سوچا شاید بھارتی وزیر دفاع کو سندھ کا درد اس لیے ہورہا ہو کہ وہ یہاں کے ہوں، مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ راج ناتھ سنگھ اور ان کے والد دونوں بھارتی ریاست اترپردیش میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کبھی سندھو کا پانی نہیں پیا، اسی لیے ایسے غیرذمہ دارانہ بیانات دیتے ہیں، سندھو کا پانی پینے والا اپنی دھرتی سے غداری نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کو ختم کرنے کی دھمکی بھی مایوسی اور شکست کا اعتراف ہے، بھارت دریاؤں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے جواب کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ سندھو ہمارا ہے اور ہمیشہ ہمارا ہی رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج ہر طرح کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے تجویز دی کہ دریائے سندھ پر پاکستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاقی حکومت کو بھیجی جائے تاکہ قومی سطح پر مضبوط مؤقف پیش کیا جاسکے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سندھ پاکستان کا اٹوٹ حصہ ہے، اسے پاکستان سے جدا کرنا تو دور، اس کی سرحدوں میں معمولی تبدیلی بھی ممکن نہیں، سندھ ہمیشہ متحد رہے گا اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔