انکم ٹیکس کیس: آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا اسٹے آرڈر کالعدم قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے انکم ٹیکس کیسز سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے اسٹے آرڈر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایک نجی بینک کی درخواست منظور کرلی ہے۔
فیصلہ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سنایا۔
سماعت کے دوران نجی بینک کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے پاس ان کے کیس میں کوئی حکم جاری کرنے کا دائرہ اختیار نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس کا سارا بوجھ عوام پر، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تو کام چلیں گے، سپریم کورٹ
انہوں نے کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ کے پاس آئینی مقدمات کے لیے کوئی الگ طریقہ کار نہیں تھا۔
تاہم بعد ازاں قانون سازی کے بعد واضح ہوا کہ آئینی مقدمات مخصوص آئینی بینچوں میں ہی جانے چاہئیں۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کا کیس آئینی بینچ کے پاس تھا، پھر آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ دائرہ اختیار نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: سپرٹیکس: عدالت کے پاس قانون کو اسٹرائیک ڈاؤن کرنے کی طاقت موجود ہے، وکیل مخدوم علی خان کا استدلال
انہوں نے مزید کہا کہ جب یہ آرڈر جاری ہوا، اس وقت 26ویں آئینی ترمیم نافذالعمل تھی، جس کے تحت واضح ہوچکا تھا کہ آئینی نوعیت کے مقدمات آئینی بینچ ہی سنے گا۔
جبکہ دیگر کیسز ریگولر بینچوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سپر ٹیکس سے متعلق قانون سازی میں تضاد، سپریم کورٹ میں اہم نکات سامنے آگئے
بینچ نے ریمارکس دیے کہ جب ایک الگ نظام تشکیل دیا گیا ہے تو اس کا واضح مقصد بھی موجود ہے، اور دائرہ اختیار سے باہر دیا گیا کوئی بھی فیصلہ غیر قانونی تصور ہوتا ہے۔
سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کا اسٹے آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے نجی بینک کی درخواست منظور کرلی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی عدالت اسٹے آرڈر جسٹس عامر فاروق سندھ ہائیکورٹ کالعدم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت اسٹے ا رڈر جسٹس عامر فاروق سندھ ہائیکورٹ کالعدم سندھ ہائیکورٹ دائرہ اختیار کورٹ کے کے پاس
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔