پشاور:

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی پاکستان کے بارے میں 186 پیجز کی رپورٹ حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے، حکومت کبھی یہ رپورٹ جاری نہ کرتی اگر آئی ایم ایف یہ شرط نہ لگاتی کہ ہم اگلی قسط آپ کو جاری نہیں کریں گے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے یہ رپورٹ جولائی میں حکومت کو دی تھی لیکن حکومت جاری نہیں کر رہی تھی اور جولائی کی رپورٹ حکومت نے جاکر نومبر میں رات کے اندھیرے میں شائع کی۔

مزمل اسلم نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت ہوتی تو یہ رپورٹ رات کے اندھیرے کے بجائے دن کے اجالے میں جاری کرتے، آئی ایم ایف رپورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے بارے میں سوالات اُٹھائے گئے ہیں کہ ججز کی تعیناتی کیسے ہوگی اس بارے بھی تفصیلی لکھا گیا ہے اور خدشات کا اظہار کیا گیا ہے اور اس رپورٹ کو اس لیے بھی تاخیر کا شکار کردیا گیا تھا کہ ستائیس ویں آئینی ترمیم کو پاس کیا جاسکے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت کبھی یہ رپورٹ جاری نہ کرتی اگر آئی ایم ایف یہ شرط نہ لگاتی کہ ہم اگلی قسط آپ کو جاری نہیں کریں گے اور آئی ایم ایف کی بورڈ میٹنگ 8 دسمبر کو شاید اسی یقین دہانی پر طے ہوئی۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اس رپورٹ کے پیچھے کیوں چھپ رہی ہے حکومت کو چاہیے تھا کہ باقاعدہ پریس کانفرنس کرتی ویسے تو حکومت بات بات پر پریس کانفرنس کرتی ہے تو اس پر وزیراعظم اور وزراء کو پریس کانفرنس کرنی چاہیے تھی۔

یہ پڑھیں : پاکستان میں ہر سطح پر بدعنوانی ہے، طاقتور حلقوں نے معاشی پالیسیاں یرغمال بنالیں، آئی ایم ایف کی رپورٹ
 

مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت کو اس رپورٹ پر قوم کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا کہ اس رپورٹ میں کتنی حقیقت ہے اور کتنی نہیں ہے کیونکہ یہ رپورٹ تو آئی ایم ایف کی لکھی ہوئی ہے، حکومت اس پر کیوں خاموش ہےْ

مزمل اسلم نے کہا کہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ حکومت نے پچھلے دو سال میں کرپشن کے پانچ ہزار تین سو ارب روپے ریکور کیے ہیں جو آئی ایم ایف کہتی ہے کہ یہ بھی فریکشن آف کرپشن ہے مطلب بے ضابطگیاں ہیں۔

مزمل اسلم نے کہا کہ یہ اتنے زیادہ فنڈز ہیں جس سے پاکستان کے سارے ڈیمز دو بار تعمیر کیے جاسکتے ہیں اور سرکاری ملازمین کو پانچ سال کیلئے ٹیکس سے چھوٹ مل سکتی ہے۔

مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان میں جو بے ضابطگیاں "ایلیٹ کیپچر" کی وجہ سے ہیں وہ 6.

5 فیصد جی ڈی پی کے برابر ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت 6.5 فیصد شرح نمو میں اضافہ اپنے وسائل سے کر سکتی تھی۔

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اٹھائیس ویں ترمیم کی باتیں بھی این ایف سی کے گرد گھوم رہی ہے کہ وفاق کے پاس فنڈز نہیں ہیں سارے صوبوں کو جاتے ہیں وفاق کے پاس فنڈز ہیں لیکن وفاق خود غلطیاں کر رہا ہے جس کی وجہ سے وسائل ضائع ہو رہے ہیں اور فنڈز ٹھیک طریقے سے استعمال نہیں ہو رہے ہیں۔

مزمل اسلم نے کہا کہ شہباز شریف تو کہتے تھے کہ ان کی حکومت میں کرپشن کا ایک دھیلا بھی ثابت نہیں ہوا تو یہ پانچ ہزار تین سو ارب کی کرپشن پچھلے دو سال میں کہاں سے آگئی؟شہباز شریف حکومت میں تو کرپشن کے بہت زیادہ اسکینڈلز بنے ہیں ابھی جو حال ہی کے اسکینڈلز بنے ہیں ان میں گندم اسکینڈل، پاور اسکینڈل، ایل این جی اسکینڈل، شوگر اسکینڈل اور پنجاب میں جو ایک ارب روپے کی آڈٹ جنرل کی رپورٹ ائی ہے تو یہ سب کیا ہے؟

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مزمل اسلم نے کہا کہ پریس کانفرنس آئی ایم ایف ایم ایف کی کی رپورٹ یہ رپورٹ اس رپورٹ کہ حکومت

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے