سونا کی قیمت میں فی تولہ 3300 روپے کی کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد سونے کی قیمت میں آج کمی دیکھی گئی ہے۔ آل پاکستان جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 3 ہزار 300 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 39 ہزار 762 روپے ہو گئی ہے۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی کمی ہوئی اور یہ 2 ہزار 829 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 77 ہزار 25 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کا بھاؤ بھی 33 ڈالر کی کمی کے بعد 4,174 ڈالر فی اونس ریکارڈ کیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز فی تولہ سونے کی قیمت میں 8 ہزار 300 روپے کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا اور یہ 4 لاکھ 43 ہزار 62 روپے تک جا پہنچی تھی۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی معیشت اور مقامی طلب و رسد کے باعث معمول کی بات ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سونے کی قیمت کی قیمت میں
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔