جے پی ایم سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شاہد رسول انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر شاہد رسول دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے۔
اسپتال کے ترجمان جہانگیر درانی کے مطابق ڈاکٹر شاہد رسول کو جمعے کی صبح اچانک دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔
انہیں فوری طور پر رُتھ فاؤ سول اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ ان کی عمر 59 برس تھی۔
ڈاکٹر شاہد رسول کے انتقال پر سیاسی و طبی حلقوں میں دکھ کی لہر دوڑ گئی ہے۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی طبی شعبے کے لیے خدمات کو سراہا۔
انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ایک بڑا نقصان قرار دیا۔
صوبائی وزیرِ صحت و پاپولیشن ویلفیئر ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بھی تعزیتی بیان میں ڈاکٹر شاہد رسول کی وفات کو عوامی صحت اور طبی تعلیم کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم نے جے پی ایم سی کو دیانت داری، ہمدردی اور خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھایا۔
’ان کی خدمات ایک ایسی میراث ہیں جو آنے والے برسوں تک رہنمائی کا ذریعہ رہیں گی۔‘
وزیرِ صحت نے مرحوم کے اہلِ خانہ اور جے پی ایم سی کے عملے سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر شاہد رسول طویل عرصے سے جناح اسپتال اور جے پی ایم سی میں خدمات انجام دیتے رہے اور طبی برادری میں ایک باوقار مقام رکھتے تھے۔
ان کے انتقال کو سرکاری اسپتالوں پر انحصار کرنے والے ہزاروں مریضوں کا بھی نقصان قرار دیا جارہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتقال جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر ڈاکٹر شاہد رسول ڈاکٹر عذرا پیچوہو کامران خان ٹیسوری کراچی گورنر سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتقال ڈاکٹر شاہد رسول ڈاکٹر عذرا پیچوہو کامران خان ٹیسوری کراچی گورنر سندھ ڈاکٹر شاہد رسول جے پی ایم سی کے انتقال کے لیے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔