اسلام آباد میں پہلی روبوٹک سرجری، پاکستان میں میڈیکل کے شعبے میں نئی تاریخ رقم
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں میڈیکل کے شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کردی گئی۔
پمز اسپتال میں پہلی مرتبہ انتہائی جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک پیچیدہ سرجری مکمل کی گئی۔ یہ کارنامہ نہ صرف پاکستان کے میڈیکل شعبے کے لیے تاریخی پیش رفت ہے بلکہ مستقبل میں مریضوں کو بہتر، محفوظ اور کم تکلیف دہ علاج کی نئی راہیں بھی فراہم کرے گا۔
تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پمز میں جدید “ٹو مائی سرجیکل روبوٹ” کا استعمال کرتے ہوئے ایک انتہائی حساس آپریشن انجام دیا گیا جس میں برطانیہ سے آئے بین الاقوامی سرجن بھی شریک رہے۔ اس موقع پر پاکستانی ماہرین پروفیسر شمیم خان، پروفیسر متین شریف اور ڈاکٹر جاوید برکی نے مجموعی سرجری کے دوران رہنمائی کا اہم کردار ادا کیا، جبکہ پمز کے ماہر ڈاکٹر عاطف انعام شامی، ڈاکٹر برہان الحق اور ڈاکٹر خالد سعید بھی ٹیم کا حصہ رہے۔
یہ مشترکہ کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی ڈاکٹر عالمی معیار کے ساتھ کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر نے اس کامیاب تجربے کو اسپتال کے لیے سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ روبوٹک سرجری جدید طب کا مستقبل ہے اور کئی ایسے پیچیدہ آپریشن جنہیں روایتی طریقوں سے مکمل کرنا مشکل ہوتا تھا، اب روبوٹ کی مدد سے نہ صرف زیادہ محفوظ بلکہ آسان بھی ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس ٹیکنالوجی سے مریض کو کم تکلیف ہوتی ہے، صحت یابی کا وقت کم ہوجاتا ہے اور نتائج بھی بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ پمز میں مستقبل میں بھی اسی نوعیت کے مزید تجربات کیے جائیں گے تاکہ پاکستان کے عوام کو عالمی معیار کی صحت سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پہلی روبوٹک سرجری کی کامیابی نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں بھی روبوٹک میڈیسن کی ترقی کا راستہ مزید تیز ہوگا۔ اس کامیابی نے نہ صرف میڈیکل اسٹاف کا حوصلہ بڑھایا ہے بلکہ ملک میں جدید طبی تحقیق اور آلات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔