وفاقی محصولات کی تقسیم میں پنجاب لاڈلہ ہے، مزمل اسلم
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے وفاق کی جانب سے صوبوں کو ملنے والے محصولات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی محصولات کی تقسیم میں پنجاب لاڈلہ ہے۔
اپنے بیان میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پچھلے سال کی نسبت پنجاب کو محصولات 16 فیصد زیادہ دیے گئے ہیں۔ انصاف کا تقاضا ہے باقی صوبوں کو بھی 16 فیصد اضافی محصولات جاری کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کو 882 ارب روپے 16 فیصد اضافے کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں، سندھ کو 441 ارب روپے 13 فیصد اضافے کے ساتھ جاری کیے گئے۔
مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کو 287 ارب روپے 12 فیصد اضافے کے ساتھ جاری کیے گئے ہیں جبکہ بلوچستان کو 164 ارب روپے صرف 5 فیصد اضافے کے ساتھ جاری کیے گئے۔
مزمل اسلم نے مزید کہا کہ دہشت گردی و پسماندگی کی وجہ سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے فنڈز میں اضافہ ہونا چاہیے لیکن وفاق کی جانب سے پنجاب حکومت پر دست شفقت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔