کالعدم تحریک لبیک کیلئے قانونی شکنجہ مزید سخت، نیا حکم نامہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
کالعدم ٹی ایل پی کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں
محکمہ داخلہ پنجاب کابورڈ آف ریونیو، سیکرٹری ہاؤسنگ اور کوآپریٹو سمیت دیگر محکموں کو مراسلہ
پنجاب حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کے احکامات جاری کردیے۔تفصیلات کے مطابق کالعدم تحریک لبیک پاکستان کی جائیدادیں منجمد کرنے کے احکامات محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردیے گئے ہیں۔صوبے بھر میں ٹی ایل پی کے نام پر موجود جائیدادیں اور اثاثے منجمد کرنے کی رپورٹ محکمہ داخلہ پنجاب کو ارسال کی جائے گی۔چیٔرمین سب کیبنٹ کمیٹی خواجہ سلمان رفیق کی سرپرستی میں اس سے متعلق فیصلہ ہوا تھا۔سیکرٹری محکمہ داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی جانب سے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کر دی گئی جبکہ بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری ہاؤسنگ اور سیکرٹری کوآپریٹو سمیت دیگر محکموں کو مراسلے جاری کر دیے گئے۔تحریک لبیک کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: محکمہ داخلہ پنجاب تحریک لبیک
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔