موبائل فونز پر ناقابلِ برداشت ٹیکس سے چھٹکارا، 3 دسمبر کو کیا فیصلہ متوقع ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی نے پاکستان میں موبائل فونز پر عائد پی ٹی اے ٹیکس کے خلاف ایک وسیع مہم شروع کر رکھی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ٹیکس کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔
واضح رہے کہ انہوں نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھی خط لکھا ہے، جس میں بتایا گیا کہ یہ ٹیکس غیر معقول حد تک بڑھ چکے ہیں اور لاکھوں پاکستانیوں، خصوصاً کم آمدنی والے صارفین کے لیے اسمارٹ فون کی رسائی کو ناقابلِ برداشت بنا رہے ہیں۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سید علی قاسم گیلانی نے کہا کہ انہیں یہ مہم شروع کرنے کا خیال اس وقت آیا جب انہوں نے حال ہی میں 2 موبائل فون خریدے، جن میں سے ایک تحفے کے طور پر تھا جبکہ دوسرے پر انہیں 5 لاکھ روپے تک ٹیکس ادا کرنا پڑا، جو ان کے بقول گاڑی کے ٹیکس سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: ملک میں گاڑیوں اور موبائل فونز کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟
انہوں نے کہا کہ یہ بھاری ٹیکس عوام کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر رہے ہیں، جبکہ اوورسیز پاکستانی سالانہ 40 ارب ڈالر بھیجنے کے باوجود ایک موبائل فون بھی مناسب ٹیکس کے بغیر ملک میں نہیں لا سکتے۔ مختلف حکومتی اراکین، آئی ٹی وزارت اور پی ٹی اے حکام بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ موجودہ بھاری ٹیکس غیر مناسب ہیں، جبکہ عوام اس کا ذمہ دار اکثر پی ٹی اے کو سمجھتے ہیں۔
رکن قومی اسمبلی نے ڈبل ٹیکسیشن کو بھی سنگین مسئلہ قرار دیا اور بتایا کہ اگر کسی شہری کا فون چوری ہو جائے یا خراب ہو جائے تو نیا فون لینے پر دوبارہ پورا پی ٹی اے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ یہ ٹیکس شناختی کارڈ کے بجائے IMEI نمبر سے منسلک ہے، جو انتہائی غیر منصفانہ اور ناقص پالیسی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ٹیکس کے مکمل خاتمے کے حامی نہیں کیونکہ اس سے مقامی موبائل انڈسٹری متاثر ہو سکتی ہے، تاہم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ حد 50 ہزار روپے مقرر کی جانی چاہیے تاکہ عام صارفین، طلبہ اور کریئیٹرز ہائی اینڈ فونز خرید سکیں۔
مزید پڑھیں: غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزم گرفتار، ڈالرز اور موبائل فونز برآمد
اس سوال کے جواب میں کہ مہم اب تک کہاں پہنچی اور کامیابی کے کتنے امکانات ہیں، انہوں نے بتایا کہ حکومت کی درخواست پر انہوں نے فی الحال اپنی قرارداد مؤخر کر دی ہے، تاہم 3 دسمبر کو ہونے والے فنانس کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر سمیت تمام متعلقہ حکام کے ساتھ اس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ ممکن ہے کوئی بہانہ یا لالی پاپ دیا جائے لیکن ہم اس مسئلے کے حل کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہیں اور پارٹی قیادت سمیت وزیر خزانہ سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ میرا ساتھ دیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسمارٹ فونز اب عیاشی کی چیز نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہیں، کیونکہ یہ تعلیم، سرکاری اور مالی خدمات تک رسائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سید علی قاسم گیلانی نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے لگائے گئے درآمدی محصولات، سیلز ٹیکس اور رجسٹریشن فیس جیسے متعدد چارجز اسمارٹ فونز کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: تمام موبائل فونز، ٹیبلیٹس اور کیمروں کے لیے ایک ہی چارجر، قانون کا اطلاق ہوگیا
یاد رہے کہ قاسم گیلانی نے سوشل میڈیا پر بھی اپنا مؤقف پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ حکام جیسے وزیرِ آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال کیانی اور سینیٹر سلیم منڈی والا ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی فون اسمارٹ فون پی ٹی اے رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی موبائل فونز پر ناقابلِ برداشت ٹیکس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی فون اسمارٹ فون پی ٹی اے رکن قومی اسمبلی سید علی قاسم گیلانی موبائل فونز پر ناقابل برداشت ٹیکس سید علی قاسم گیلانی قاسم گیلانی نے موبائل فونز اسمارٹ فون موبائل فون نے کہا کہ انہوں نے پی ٹی اے کے لیے
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔