شہباز شریف نے فون پر اعتراف کیا کہ میں نے لاکھوں جانیں بچائیں، امریکی صدر
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
شہباز شریف نے فون پر اعتراف کیا کہ میں نے لاکھوں جانیں بچائیں، امریکی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 20 November, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی کی فوجی کشیدگی پر تازہ گفتگو میں کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انہیں فون کر کے بتایا کہ انہوں نے ’لاکھوں جانیں بچائیں‘، اور یہ بھی کہ اس جھگڑے کو ختم کرنے میں ’350 فیصد ٹیرف‘ کی دھمکی کارگر ثابت ہوئی۔
اس سال کے آغاز میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاحوں پر ایک ہلاکت خیز حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کیے جانے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی، تاہم پاکستان نے الزام کو مسترد کر دیا تھا۔
دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں جو مئی میں ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ جنگ بندی پر ختم ہوئیں، اس کے بعد وہ بارہا اس بحران کو ختم کرنے میں اپنے کردار کا ذکر کر چکے ہیں۔
بدھ کو امریکا سعودی سرمایہ کاری فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’میں تنازعات کو حل کرنے میں اچھا ہوں، اور ہمیشہ رہا ہوں، میں نے اس حوالے سے برسوں میں بہت اچھا کام کیا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’بھارت، پاکستان، ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ جنگ کرنے والے تھے، میں نے کہا ٹھیک ہے، آپ لڑ سکتے ہیں، لیکن میں دونوں ممالک پر 350 فیصد ٹیرف لگا رہا ہوں، امریکا کے ساتھ مزید کوئی تجارت نہیں ہوگی‘۔
انہوں نے بھارتی اور پاکستانی ردِعمل کی نقل اتارتے ہوئے کہا کہ ’ وہ بولے، نہیں، نہیں، آپ ایسا نہیں کر سکتے‘۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے جواب دیا کہ ’میں ایسا کرنے جا رہا ہوں، میرے پاس واپس آؤ تو میں اسے کم کر دوں گا، لیکن میں آپ لوگوں کو ایٹمی ہتھیار ایک دوسرے پر داغتے نہیں دیکھ سکتا، لاکھوں لوگوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا اور ایٹمی گرد و غبار کو لاس اینجلس پر آتے نہیں دیکھ سکتا، میں ایسا نہیں ہونے دوں گا‘۔
انہوں نے دوبارہ کہا کہ ’اس تنازع کو ختم کرنے میں 350 فیصد ٹیرف کی دھمکی ہی کارگر رہی‘۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’کوئی اور صدر ایسا نہ کرتا، جو بائیڈن تو یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم کن ممالک کی بات کر رہے ہیں، انہیں کوئی اندازہ نہیں ہوگا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن آٹھ جنگوں کے خاتمے کا وہ کریڈٹ لیتے ہیں، ان میں سے 5 انہوں نے ٹیرف کی دھمکی کے ذریعے ختم کرائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں آپ کو بتاتا ہوں، پاکستان کے وزیر اعظم نے مجھے فون کیا، انہوں نے واقعی کہا کہ میں نے لاکھوں جانیں بچائیں اور انہوں نے یہ بات سوزی کے سامنے کہی‘۔
انہوں نے کہا کہ ‘صدر ٹرمپ نے لاکھوں جانیں بچائیں، انہیں خود اس بات کا اندازہ بھی نہیں، لیکن انہوں نے لاکھوں جانیں بچائیں’۔
امریکی صدر نے جس شخصیت کا نام لیا وہ غالباً وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز تھیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا فون آیا، اور ان کے درمیان گفتگو اس طرح ہوئی کہ مودی نے کہا کہ ’ہم جنگ نہیں کرنے جا رہے‘۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے جواب دیا کہ ’بہت شکریہ، آئیے، ایک معاہدہ کرتے ہیں‘۔
ٹرمپ نے دیگر تنازعات ختم کرنے میں اپنے کردار کا بھی ذکر کیا، جن میں اکتوبر میں غزہ کے لیے ایک امن منصوبے کی بات بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے آٹھ جنگیں ختم کی ہیں، اب صرف ایک باقی ہے‘۔
تاہم انہوں نے یوکرین پر روس کے حملے کے خاتمے میں رکاوٹ ڈالنے پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے سوچا یہ میرے لیے آسان معاملہ ہوگا، کیونکہ میری صدر پیوٹن سے اچھی دوستی ہے، لیکن میں اس وقت پیوٹن سے کچھ مایوس ہوں، وہ یہ جانتے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی ولی عہد چاہتے تھے کہ ’وہ سوڈان کے حوالے سے کچھ بڑا کریں‘، اور انہوں نے اس مسئلے کی طرف توجہ دینے کا عزم ظاہر کیا، اگرچہ یہ معاملہ اس سے پہلے ان کی ترجیحات میں نہیں تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ آپ کے لیے کتنا اہم ہے، اور ہم سوڈان پر کام شروع کرنے والے ہیں‘، اس پر تالیاں بجیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے نہیں سوچا تھا کہ یہ اتنا آسان معاملہ ہوگا، لیکن ہم اس پر کام شروع کر رہے ہیں‘۔
امریکی صدر اس سے قبل بھی کئی بار دعویٰ کر چکے ہیں کہ مئی کے بحران کے دوران 5 سے 8 طیارے مار گرائے گئے تھے، وہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی تعریف کر چکے ہیں، جن سے وہ ستمبر میں واشنگٹن میں ملے تھے۔
دوسری جانب بھارت ٹرمپ کے اس دعوے سے اختلاف کرتا ہے کہ دونوں ممالک کی جنگ بندی ان کی مداخلت اور تجارتی دھمکیوں کے نتیجے میں ہوئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپولیس سے جعلی مقدمے، بچیاں، عورت اغوا کرانا کہاں کا انصاف ہے؟ جسٹس محسن اختر پولیس سے جعلی مقدمے، بچیاں، عورت اغوا کرانا کہاں کا انصاف ہے؟ جسٹس محسن اختر کالعدم ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں متعدد حملے کیے: ڈنمارک جسٹس محسن اختر کیانی کے آئینی عدالت سے متعلق اہم ریمارکس چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن اجلاس 2 دسمبر کو ہوں گے وزیر خارجہ کے بعد طالبان کے وزیر تجارت کی بھی بھارت آمد، سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی قرار دے دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے لاکھوں جانیں بچائیں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے شہباز شریف امریکی صدر رہا ہوں کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔